بغض بھٹو میں جو کرنا چاہتے ہیں کریں مگر پیپلزپارٹی کو عوام سے نہیں نکال سکتے ، بلاول بھٹو زرداری

وہ تو سندھ بچانے کی باتیں کررہے تھے لیکن سندھ توڑنے والوں سے جاملے ہیں ، سکھر میں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب

سکھر: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مخالفین سے کہا ہے کہ وہ بغض بھٹو میں جو کرنا چاہتے ہیں کریں مگر پیپلزپارٹی کو عوام سے نہیں نکال سکتے وہ تو سندھ بچانے کی باتیں کررہے تھے لیکن سندھ توڑنے والوں سے جاملے ہیں سکھر میں ڈویژنل صدر حاجی انور خان مہر کی رہائش گاہ پر زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے لیاری کے کسی چار سو افراد کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرایا اس نے تو ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے جن لوگوں نے وہاں پر سازش رچی تھی ان لوگوں کے جو کیا وہ لیاری کا اسپرٹ نہیں تھا لیاری کا کلچر تو مہمان نوازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن پتھراؤ کو احتجاج نہیں کہا جاسکتا ورنہ تو کل بندوق چلانے کو بھی احتجاج کہا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کٹھ پتلی الائنس سے کوئی فرق نہیں پڑتا پیپلزپارٹی عوام میں ہے اس کے خلاف جو پروپگینڈہ کیا جارہا ہے وہ ٹی وی کی اسکرینوں پر ضرور ہوگا لیکن گذشتہ چار دن سے عوام نے جس طرح میرا جوش و جذبے سے میرا استقبال کیا ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ عوام میرے ساتھ ہیں اور آج میں پنجاب جارہا ہوں اور اس کے بعد کے پی کے بھی جاؤں گا۔

مزید پڑھیں۔  نوجوان آسٹریلوی مسلمان انتقال سے قبل اپنی تمام دولت عطیہ کر گیا

مجھے یقین ہے کہ وہاں کے عوام بھی میریساتھ ہیں ہم جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ جمہوریت کے بغیر ملکی مسائل کا حل مشکل ہے ہم پارلیمنٹ میں آکر جمہوریت کے تمام حصوں کو مضبوط کریں گے تاکہ بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے ہم اس پر کوئی کمپرومائیز نہیں کریں گے ۔نواز شریف کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے حوالے سے دیئے گئے بیان پر بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئی بھی مطلوبہ ملزم یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کا فیصلہ کب سنایا جائے۔ یہ عدالت پر منحصر ہونا چاہیے کہ وہ کب فیصلہ سناتی ہے بی بی شہید نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی وہ آمروں سے لڑتی رہیں۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاو ل بھٹو نے کہا کہ ملکی تاریخ میں 5 جولائی کو ہمیشہ یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائیگا: بلاول بھٹو زرداری، آمر ضیا نے ملک سے جمہوریت کا صفایا کرنے کی سازش کی، جمہوریت پسند افراد کو بدترین بربریت کا نشانہ بنایا اور قید تنہائی کی سزائیں، ضیاء کی آمریت نے ملک کو دلدل کی جانب دھکیلا، جو کہ عوام کے لیئے ایک ڈروَنا خواب تھا، آمر ضیا ء شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عزم و حوصلہ توڑنے میں ناکام ہوئے۔

شہید بھٹو فخر سے پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالا،شہید بھٹو نے اپنی زندگی و موت ننگے پاوَں والے لوگوں کے حقوق کی جدوجہد کے لیئے وقف کردی،آمر ضیاء نے انتہاپسندی و دہشتگردی کو تقویت اور ملک کے بانی اجداد کے نظریئے اور آدرشوں کودرِگور کیا، ضیاء نے شہید بی بی کی زیرِقیادت بحالی جمہوریت کی عوامی تحریک کو کچلنے کے لیئے سرتوڑ کوششیں کیں، لیکن ناکام ہوا،پیپلز پارٹی کی قیادت نے تین آمریتوں کے خلاف لڑائی لڑی اور انہیں شکست دی، پی پی پی قیادت کی آج تیسری نسل آمریتوں کی اس باقیات سے نبرد آزما ہے، جنہوں نے مختلف سیاسی ٹوپیاں پہن رکھی ہیں،پیپلز پارٹی نے آمریتوں کو شکست دی اور اب ان کی باقیات و حواریوں کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی قائد کے تصور کے عین مطابق پاکستان کو مساوات پر قائم پرامن، ترقی پسند اور خوشحال ملک بنائیں گے ۔

مزید پڑھیں۔  پنجاب بھرمیں904ٹریفک حادثات میں7 افراد جاں بحق1027زخمی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں