قومی سلامتی پرعسکری قیادت کے مسلسل رابطے… اداریہ

عسکری قیادت سے رابطے
loading...

وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے ملاقات کی۔ اس موقع پر قومی سلامتی اموراور پاک افغان تعلقات کے علاوہ وزیراعظم کو دہشتگردی کے خلاف آپریشنز پر بھی بریفنگ  دی گئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو کے مجوزہ دورے پر بھی مشاورت کی گئی اورایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیاگیا۔ واضح رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کی یہ تیسری ملاقات ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم اور ان کے اہم وفاقی وزراء نے پاک فوج کے ہیڈکوارٹرز جی ایچ کیوکا دورہ بھی کیا تھا۔ جہاں انہیں ملکی دفاع اور سلامتی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی تھی۔

سفارتی اور سیاسی حلقے ان پے در پے ملاقاتوں کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں۔ جن کا مرکزی محور پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی اور پاکستان کی بگڑتی معاشی صورتحال پر قابو پانا ہے۔ اسی تناظر میں سول ملٹری تعلقات کی خوشگواریت اور سیاسی و عسکری قیادت کے ایک پیج پر ہونے کا تاثر بھی بار بار دیا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈنفورڈ کے مختصر دورہ اسلام آباد کے بارے میں امریکی وزیر دفاع جنرل جیمس میٹس نے 28 اگست کی پنٹاگان میں اپنی ارجنٹ پریس کانفرنس میں جو کچھ کہا تھا اس سے واضح ہوگیا تھا کہ بھارت جاتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ کا اسلام آباد میں یہ ٹرانزٹ قیام تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے نہیں بلکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانے اور امریکی مطالبات منوانے کے لیے ہوگا۔ جبکہ اصل ڈائیلاگ اور تعاون کے نئے سمجھوتے اور خیر سگالی میں اضافے کے ایجنڈے پر کام نئی دہلی میں ہوگا۔ ایسے وقت میں کہ جب پاکستان کی نئی حکومت اپنے ہی پیدا کردہ منشور سے متضاد حالات و واقعات میں الجھی ہوئی ہے اور قومی معیشت کے بحران سے ڈیل کرنے کی ابتدائی کاغذی تیاریوں میں مصروف ہے۔ 70 سال کے پرانے اتحادی امریکہ کی جانب سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور لاتعلقی اب بڑھ کر مخالفت میں تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔

عالمی تناظر میں پاکستانی قوم کے مورال کو بلند کرنے کے لیے وزیر خارجہ کو صرف جذباتی بیانات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ڈپلومیسی کے میدان میں بھی تدبر کے ساتھ امریکہ کے مدِمقابل آگے بڑھنا ہو گا۔ ملک میں داخلی سیاسی پولرائزیشن، معاشی نازک صورتحال اور پاک امریکا تعلقا ت میں کشیدگی کی بیک وقت موجودگی میں ہمارے فیصلہ سازوں کو کسی خوش گمانی کی بجائے سنجیدگی سے قوم کے سامنے حقائق کو پیش کرنا چاہیئے۔

مزید پڑھیں۔  پاکستان میں میڈیا کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ..... سی پی جے

دوسری جانب ہمارا گردشی قرضہ پچھلے برسوں میں حکومت کی طرف سے بار بار خطیر ادائیگیوں کے باوجود جس تیزی سے بڑھتا ہوا 596 ارب روپے کی سطح پر جا پہنچا ہے اس کی وجوہات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا بھی ناگزیر ہے۔ کیا یہ بات تعجب خیز نہیں کہ صرف جولائی کے مہینے میں گردشی قرضے میں 30 ارب روپے کا حیران کن اضافہ ہوا۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن امر وزارت توانائی اور پاور ڈویژن کے حکام کی طرف سے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اس انکشاف کی صورت میں سامنے آیا کہ پاور ہولڈنگ کمپنیوں کا بھی 582 ارب روپے کا گردشی قرضہ سامنے کھڑا ہے۔ اس طرح حقیقی واجبات کی رقم 1188 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس کے سدباب کی فوری تدابیر نہ کی گئیں تو ملکی معیشت کے حوالے سے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

ای سی سی نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے حکام سے کہا ہے کہ 60 ارب روپے کے واجبات کی وجوہ بتائی جائیں۔ تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پر فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔ یہ معاملہ اس اعتبار سے حساس کہا جاسکتا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا در کھلتا ہے جبکہ نیپرا کی طرف سے بجلی کی قیمت میں 36 پیسے اضافے کی منظوری غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

چیئرمین اسد عمر نے کھاد کی قیمتوں میں اضافے اور برآمد کو ملک اور کسانوں کے مفادات کے منافی قرار دیا کیونکہ پچھلے برس کھاد کی صنعت کو زر تلافی کے ذریعے جو ترغیب دی گئی اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع کا فائدہ کسان کو پہنچنا چاہیئے تھا اور اگر کھاد برآمد نہ کی جاتی تو اس برس فصلوں کی بوائی کے لیے کھاد امپورٹ کرنے کے بارے میں سوچنے کی ضرورت بھی نہ ہوتی۔ ہونا بھی یہ چاہیئے کہ کاشت کاروں کو ایسی سہولتیں دی جائیں جن کے نتیجے میں انکے کھیت ان کے لیے رزق پیدا کرنے اور ملک کو خوشحال بنانے کا ذریعہ بنیں۔

مزید پڑھیں۔  پی ٹی آئی کے کارکنان کو قتل کیا جا رہا ہے، عدالت نوٹس لے,

ذرائع کے مطابق بجلی کے نادہندگان کو پری پیڈ میٹر فراہم کرنے کی ایک تجویز بھی زیرغور ہے تاکہ پیشگی ادائیگی کے بعد ہی بجلی کی فراہمی ممکن ہو۔ اس تجویز کے مثبت اور منفی پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیئے۔ درحقیقت خارجہ اور معاشی محاذ پر پاکستان ایک دوراہے پر کھڑا ہے اور ایسے میں تحریک انصاف کی نئی حکومت اور اس کی نا تجربہ کار ٹیم دفتر خارجہ اور سول و ملٹری بیوروکریسی کے لیے کڑا امتحان بنی ہوئی ہے۔

ایک زمانے میں تحریک انصاف نے افغانستان کو نیٹو سپلائی روکنے کی کوشش کی تھی اور اس مقصد کے لیے مظاہروں کا سہارا بھی لیا گیا تھا لیکن یہ چند روزہ مہم اس لحاظ سے ناکام ہوگئی کہ بعد ازاں یہ سپلائی دوبارہ شروع ہوگئی۔ اس کے بعد آج تک نہیں سنا کہ تحریک انصاف اس معاملے میں کیا مؤقف رکھتی ہے۔ اب اس کی حکومت ہے اور پہلی مرتبہ امریکی وزیر خارجہ اپنے آرمی چیف کے ساتھ پاکستان آرہے ہیں تو شاہ محمود قریشی نے امریکہ کے ساتھ نئے رشتے استوار کرنے کی بات کی ہے۔

یہ تو مذاکرات کے بعد اور اس کے نتیجے میں ہونے والے اقدامات سے ہی معلوم ہوگا کہ امریکہ کی بات کس حد تک مانی گئی ہے اور کس حد تک رد کردی گئی کیونکہ امریکہ تو یہ چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف مزید اقدامات کرے جب کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے بہت زیادہ کرلیا اب اقدامات کی باری دنیا کی ہے۔

دیکھنا یہ ہوگا کہ امریکہ پاکستان کے اس مؤقف سے کس حد تک اتفاق کرتا ہے اور پاکستان کی نئی حکومت اس سلسلے میں اسے کس حد تک قائل کرتی ہے۔ نیا رشتہ اسی صورت استوار ہوگا جب پاکستان اور امریکہ برابر کے فریقوں کی طرح تعلقات استوار کریں گے۔ کسی طرح کی بالادستی کا تصور اگر امریکہ کے ذہن میں ہے تو ایسی صورت میں نئے تعلقات کیسے استوار ہوں گے بہرحال دورے اور اس کے نتیجے کا انتظار رہے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں