جولیس سے جولیٹ تک… رضا علی عابدی

سفرنامہ، اٹلی، آثار قدیمہ
loading...

پچھلے دنوں اٹلی کے آثار قدیمہ دیکھے۔ ان لوگوں نے یوں بچا بچا کر رکھے ہیں تاکہ دنیا ان کے ماضی کی یادگاریں دیکھے۔ پھر خیال آیا اپنے شہر دلی مسلمانوں کا جن کا مطالبہ ہے کہ ہمایوں کا مقبرہ گرا کر اس کی جگہ قبرستان بنایا جائے۔ سبب اس کا یہ بتاتے ہیں کہ دلی کے قبرستان بھر گئے ہیں اب اپنے جنازے دور دور لے جانے پڑتے ہیں۔ یہ اسی تاریخی عمارت کی بات ہو رہی ہے جس میں ٹوٹ پھوٹ ہورہی تھی اور جسے آغا خان نے بھاری خرچہ اٹھا کر مرمت کرایا ہے۔

وہی آغا خان جنہوں نے قراقرم کی دشوار گزار وادیوں میں چھ سات سو سال پرانی مسجد امبورق کے کھنڈروں میں نئی روح پھونک دی ہے۔ شگر کی وادی میں یہ مسجد عظیم صوفی اور مفکر سید علی ہمدانی کے ساتھ آنے والے ایرانی کاریگروں نے بنائی تھی اور قدامت کے باعث ڈھے گئی تھی۔ اب اس میں پانچ وقت نماز ہو رہی ہے۔ اٹلی کی بات یوں کر رہا ہوں کہ حال ہی میں ادھر کا دورہ کر کے آیا ہوں۔ بڑے ہی نامی گرامی سائنسدانوں، ستارہ شناسوں، جہاز رانوں، مفکروں، مصوروں، سنگ تراشوں، موسیقاروں اور جہاں گردوں کا ملک ہے۔

یہ سلسلہ ماضی کے جولئیس سیزر سے شروع ہوکر مارکو پولو اور کولمبس سے ہوتا ہوا آج کے فیشن ڈیزائنر جورجیو ارمانی تک جاتا ہے۔ وہاں جا کر اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی یہی اٹلی عظیم سلطنت روما کا صدر مقام رہا ہوگا کیونکہ انہوں نے اپنی شان و شوکت کو اس احتیاط سے سنبھال کر رکھا ہے کہ ماضی کے بارے میں قیاس کرنے کی ضرورت نہیں سب کچھ سامنے رکھا ہے اور جو جیسا تھا آج بھی ویسا ہی ہے۔

بس یوں سمجھیے کہ پیسا کا ایک جانب کو جھکا ہوا مینا ر صدیوں پہلے ایک جانب جھکا تھا تو آج تک خمیدہ ہے۔ چاہتے تو اسے سیدھا کر لیتے لیکن پھر اسے دیکھنے کوئی کیوں آئے گا۔ عجیب لوگ ہیں سیاحوں کا خیال رکھتے ہیں۔ میرا پڑاؤ شہر میلان میں تھا جس کے شاندار کلیسا کی بڑی دھوم ہے۔ دیکھنے گیا تو سنگ مرمر کی حسین عمارت دھوپ میں نہائی ہوئی تھی۔ اسے کس مشقت سے تراشا گیا ہوگا اس کی حقیقت کھلی جب کسی نے بتایا کہ یہ عمارت تقریباً چھ سو سال میں مکمل ہوئی تھی۔ یہ اٹلی کا سب سے بڑا چرچ اور دنیا کا تیسرا سب سے بڑا چرچ ہے۔

انبیاء کو ماننے والے دنیا بھر کے لوگ ان کی نشانیاں بچا بچا کر رکھتے ہیں۔ اس گرجا گھر کے ایک گنبد میں چھوٹی سے سرخ روشنی لگی ہے وہیں ایک میخ (کیل) رکھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کو صلیب پر چڑھاتے ہوئے ایسی ہی ایک میخ ان کے ہاتھ یا پاؤں میں ٹھونکی گئی تھی۔

مزید پڑھیں۔  تمھارے حکمران تمھارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔

ڈھلتے سورج کی سنہری دھوپ میں ایک اور شے جھلملا رہی تھی۔ چرچ کے سب سے اونچے مینار پر سونے کا ایک مجسمہ کھڑا تھا جس کو دوربین کے بغیر دیکھنا محال تھا۔ پتہ چلا کہ وہ ٹھوس سونے کا بنا ہوا حضرت مریم کا مجسمہ ہے جس کا وزن کئی ٹن ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا کہ اٹلی کے کسی مافیا نے ہیلی کاپٹر کی مدد سے اسے چرانے کی کوشش کی تھی مگر چرا نہ سکے۔ ایک اٹلی ہی کیا دنیا بھر کے گرجا گھروں میں قیمتی اشیاء رکھی جاتی ہیں جنہیں چور حضرات ذوق و شوق سے چراتے ہیں۔ یورپ کے کچھ گرجا گھروں کو ہڈیوں سے سجایا جاتا ہے۔

میلان میں بھی ایک چرچ ہے جو ہم دیکھ نہ سکے۔ اس کے در و دیوار کو انسانی ہڈیوں کے ڈھانچوں اور خاص طور پر کھوپڑیوں سے سجایا گیا ہے۔ ان میں پرانے زمانوں میں سزائے موت پانے والوں کے سر بھی شامل ہیں۔ یہ سب کیوں ہے ؟ جواب عرض ہے کہ خدا ہی جانے۔

قدرت نے زمین پر سیاح نام کی عجب خلقت اتاری ہے۔ مشہور مقامات کو تصویروں، فلموں، ٹی وی اور اشتہاروں میں ہزار بار دیکھے لیکن جب تک موقع پر جاکر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے اسے چین نہیں آتا۔

یہ معاملہ جیسے دیوار چین، تاج محل اور اہرام مصرکے ساتھ ہے بالکل ویسے ہی اٹلی کے شہر پیسا کے اس مشہور مینار کے ساتھ بھی ہے جو بارہویں صدی میں بننا شروع ہوا تھا۔ اسی وقت یہ ایک جانب جھکنے لگا تھا کیونکہ اس کی تہ میں ایک جانب مٹی ملائم تھی۔ عجیب لوگ تھے اٹلی والے کہ اسے بنا کر چھوڑا۔ بیچ میں جنگیں ہوئیں اور تعمیر بند رہی۔ اس وقفے میں بنیاد کی مٹی جم کر سخت ہوگئی ورنہ یہ مینار کبھی کا گر گیا ہوتا۔ دراصل یہ اس سے ملے ہوئے چرچ کا گھنٹہ گھر ہے۔ اس میں سات گھنٹے لگے ہوئے ہیں اور ذرا سوچیے کہ یہ گھنٹے سات سر نکالتے ہیں۔ موسیقی سے لگن کا کمال ہے یہ۔

پہلے اس مینار کو سیدھا کرنے کے جتن کیے گئے۔ بنیادوں میں سیسہ پلایا گیا۔ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی بلکہ ایک بار تو یہ اور زیادہ جھک گیا۔ پھر طے ہوا کہ اسے اتنا مستحکم کردیا جائے کہ یہ صدیوں یوں ہی کھڑا رہے۔ اس کے لیے ماہر تعمیرات نے سارا زور صرف کر دیا۔ اب یہ طے ہے کہ یہ ٹاور تین سو سال تک نہیں گرے گا اور دو سو سال تک تو ضرور کھڑا رہے گا۔

مزید پڑھیں۔  یورپی شاہی خاندانوں کی ملکیت رہنے والا نیلا ہیرا 67 کروڑ روپے میں نیلام

روزانہ کئی ہزار سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں اور اس کے آگے کھڑے ہوکر ایسے زاویے سے اپنی تصویر اترواتے ہے جیسے دونوں ہاتھ لگا کر ٹاور کو گرنے سے روک رہے ہیں۔ ٹاور میں دو سو چورانوے سیڑھیاں ہیں۔ من چلے سیاح ساتویں منزل تک چڑھ جاتے ہیں۔

ہم اپنی کار میں بیٹھے میلان سے پیسا کی طرف جارہے تھے۔ راہ میں چڑھائی آگئی۔ اب دور دور تک پہاڑ نظر آنے لگے جن کو جنگلوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نے یا تو ملائیشیا میں ربڑ اور پام کے ایسے جنگل دیکھے تھے یا اٹلی میں زیتون کے ایسے گھنے جنگل دیکھے جو دور سے سیاہ نظر آتے تھے۔ اچانک ان کے پیچھے ان سے بھی اونچے سفید پہاڑ نظر آئے۔ میں سمجھا ان پر برف پڑی ہے۔ پھر کسی نے بتایا کہ یہ سنگ مرمر کے پہاڑ ہیں۔ یہ اتنے زیادہ اور اتنے بڑے ہیں کہ پورے پورے ملک ان سے تعمیر ہو سکتے ہیں۔

بتانے والے نے یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد کی شاہ فیصل سے منسوب مسجد کا سارا سنگ مرمر یہیں اٹلی سے گیا تھا۔ دن میں تو پہاڑ اور جنگل ہی نظر آئے۔ واپسی اندھیرے میں ہوئی تو روشنیوں سے پتہ چلا کہ نہ صرف جنگلوں کے اندر بلکہ پہاڑوں کے اوپر تک آبادیاں ہی آبادیاں ہیں اور بلندی پر تو لوگوں نے محلات بنا رکھے ہیں۔ خوب ہے اطالوی قوم۔

آخر میں ایک زیارت گاہ کا ذکر کہ میں دو بار اٹلی گیا اور دونوں بار حاضری دی۔ یہ ہے قدیم شہر ویرونا میں رومیو کی محبوبہ جولیٹ کا گھر اور اس کی وہ بالکنی جس پر چڑھ کر رومیو اس سے پیار بھری سرگوشیاں کرتا تھا۔ اتنے بڑے شہر میں ہزاروں لوگ اس ایک مکان کو دیکھنے آتے ہیں۔

لوگ اس مکان کی دیواروں پر اپنا اور محبوب کا نام لکھ جاتے ہیں اور اپنے پیار کو امر کرنے کے لیے کسی جنگلے میں مضبوط سا تالا ڈال کر اس پر دونوں کے نام لکھ دیتے ہیں۔ وہیں جولیٹ کا سنہری مجسمہ نصب ہے۔ اسے چھو کر لوگ اپنی محبت کی قسمیں کھاتے ہیں۔ بس یہیں ہمارا سفر تمام ہوا۔ چلتے ہوئے پلٹ کے جولیٹ کی بالکنی پر آخری نگاہ کی تو شیکسپئر کے ڈرامے کا وہ مکالمہ کانوں میں چاندی کی پازیب کی طرح گونجا: جدائی میں ایسا میٹھا کرب ہوتا ہے کہ جی چاہتا ہے شب بخیر کہے جاؤں یہاں تک کہ دن نکل آئے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں