ملائیشیا میں دو ہم جنس پرست خواتین کو کوڑوں کی سزا

ملائیشیا

کولالمپور: ملائیشیا میں ہم جنس پرستی کے الزام میں دو خواتین کو دی گئی کوڑوں کی سزا پرعمل درآمد کردیا گیا ہے۔

 22 اور 32 سالہ ان خواتین کو اسلامی قوانین نافذ کرنے والے حکام نے برس شمالی ریاست ترنگانو میں ایک گاڑی سے گرفتار کیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ملائیشیا میں اسلامی شرعی قوانین کی خلاف ورزی پر خواتین کو کوڑے مارے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس سزا کو ’ظالمانہ اورنا انصافی‘ پر مبنی قراردیا اور اس پر شدید غصے کا اظہار کیا ۔

loading...

ریاست ترنگانو کی ایگزیکٹو کونسل کے ایک ممبر کا  کہنا ہے،  یہ کوئی ظلم یا تشدد نہیں ہے،  معاشرے کے دوسرے لوگوں کو سبق دینے کیلئے سرعام سزا دی گئی ہے۔ ان خواتین کو 100 سے زائد افراد کی موجودگی میں کوڑھے مارے گئے۔ البتہ ان خواتین کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔  ان خواتین نے اپنا جرم تسلیم کیا تھا۔  دونوں کو 6-6 کوڑوں کے علاوہ آٹھ آٹھ سو ڈالر جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی تھی۔

حالانکہ ہم جنس پرستی کو جائز ٹھہرانے اور جرم سے باہر نکالنے کے لئے بین الاقوامی سطح پرکوششیں ہورہی ہیں۔ آسٹریلیا میں ہم جنس پرست شادی کے حق میں لوگوں نے ووٹ دیا ہے، جس میں 61.6 فیصد لوگوں نے ہم جنس پرست شادی کی حمایت کی ہے۔

 دی آسٹریلین بیورو آف اسٹیٹكس کے مطابق ہم جنس پرست شادی کے معاملہ پر ملک گیر سروے کرایا گیا جس میں 79.5  فیصد لوگ شامل ہوئے تھے۔ اس کے لئے حکومت نے آٹھ  ہفتوں تک پوسٹل سروے کرایا تھا۔  اس سروے میں ایک کروڑ 27 لاکھ لوگ  شامل ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں۔  آزادکشمیر کا صاف ستھرا اور صحت مند ماحول اثاثہ ہے ٗراجہ فاروق حیدر

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں