حضرت عمرؓ کے غیر مسلم مالی اور فوجی مشیر

اقتصادی کمیٹی، عاطف میاں
loading...

(عدنان خان کاکڑ)
ہمارے وزیراعظم نے عاطف میاں کو اپنی اقتصادی ٹیم کا ممبر مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ دیگر درجن بھر ممبرز کے ساتھ مل کر پاکستانی معیشت بہتر کرنے کے لیے مشورے دے سکیں۔ اس پر طوفان برپا ہو گیا ہے اور عاطف میاں کو ہٹانے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
فرض کرتے ہیں کہ ہمارے عمران خان ملک کی اقتصادی حالت سنوارنے کے لیے پلاننگ کی ذمہ داری کسی نامور مغربی فرم کو دے دیتے ہیں۔ پہلے بھی تو یہی ہوتا رہا ہے، ہمارے سارے بڑے پراجیکٹ انہیں غیر ملکیوں کے قرضے اور فنی مہارت کے ذریعے مکمل کیے گئے ہیں۔ کیا ہم اس فرم کے مالکان کے مذہبی عقائد کے بارے میں تحقیق کریں گے؟ امکان تو یہی ہے کہ نہیں۔ آج تک سرکاری ٹینڈروں میں ٹھیکیدار کے مذہب کا خانہ نہیں دیکھا ہے۔
بہرحال اس فرم کو ٹھیکہ مل گیا۔ اب وہ اپنے ملازم جن ماہرین سے سٹڈی اور پلاننگ کروائے گی کیا ہم ان ماہرین کے مذہبی عقائد کی جانچ پڑتال کروائیں گے؟ آج تک کسی سرکاری ٹینڈر میں یہ بھی نہیں دیکھا ہے۔
یعنی ٹھیکے پر ہمیں ہر رنگ نسل مذہب کے بندے سے پاکستان کا کام کروانا منظور ہے بشرطیکہ وہ اپنی فیلڈ کا ماہر ہو لیکن اگر ماہر یا اس کے باپ دادا پاکستانی ہوں تو ہم خوب چھان پٹخ کر کے اس کا عقیدہ چیک کریں گے، اس کی اپنی فیلڈ میں مہارت پیمانہ نہیں ہو گی خواہ دنیا اسے اپنی فیلڈ کا بہت بڑا ایکسپرٹ ہی کیوں نہ سمجھتی ہو۔
ویسے یاد آیا، مرد مومن جنرل ضیاءالحق نے احمدیوں کے خلاف سب سے کاری قانون سازی کی تھی۔ لیکن جب سائنسی مہارت کی بات آئی تو وہ احمدی ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات حاصل کرنے میں نہ ہچکچائے۔ جنرل ضیا الحق نے ہی ڈاکٹر عبدالسلام کو اعلی ترین سویلین پاکستانی تمغہ نشان امتیاز دیا تھا۔ یہی نشان امتیاز بعد کے زمانوں میں ایٹمی سائنسدانوں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور منیر احمد خان، اور ان کے علاوہ جنرل پرویز مشرف اور جنرل راحیل شریف کو بھی دیا گیا تھا۔
جہاں تک بات ہے کسی ریاستی مشیر یا عہدیدار کے غیر مسلم ہونے کی، تو ہمارے وزیر اعظم ریاستِ مدینہ کے ماڈل پر چل رہے ہیں۔
آئیں شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف الفاروق اٹھاتے ہیں اور غیر مسلموں کے ساتھ حضرت عمرؓ کا رویہ دیکھتے ہیں۔ نوٹ کریں کہ خاص طور پر مالیاتی معاملات میں اور فوجی معاملات میں بھی غیر مسلموں کی رائے کو حضرت عمرؓ کتنی زیادہ اہمیت دیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں احمدی تو ہوتے نہیں تھے لیکن آپ کو مسیحی، یہودی اور مجوسی اس کاروبارِ مملکت میں شریک دکھائی دیں گے۔
اس کے بعد آپ فیصلہ کریں کہ غیر مسلم پاکستانی شہریوں کی مہارت سے ہمارے وزیراعظم فائدہ اٹھانے میں حق بجانب ہیں یا نہیں۔ عمران خان کی مخالفت ضرور کریں۔ میں خود بھی عمران خان کی سیاست کا کڑا مخالف ہوں۔ لیکن جہاں پاکستان کے مفاد کی بات آئے، ادھر ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہماری بے جا مخالفت پاکستان کو نقصان پہنچانے کا سبب تو نہیں بنے گی؟
الفاروق از شبلی نعمانی
خراج کے محکمے میں جس طرح قدیم سے پارسی، یونانی اور قبطی ملازم تھے بدستور بحال رہے۔ (صفحہ 37 حصہ دوم)
بندوبست اور اس کے متعلق تمام امور میں ذمی رعایا سے جو پارسی یا عیسائی تھے ہمیشہ رائے طلب کرتے تھے اور ان کی معروضات پر لحاظ فرماتے تھے۔ عراق کا جب بندوبست کرنا چاہا تو پہلے عمال کو لکھا کہ عراق کے دو رئیسوں کو ہمارے پاس بھیجو جن کے ساتھ مترجم بھی ہوں۔ پیمائش کا کام جاری ہو چکا تو پھر دس دس بڑے زمیندار عراق سے بلوائے اور ان کے اظہار لیے۔
اسی طرح مصر کے انتظام کے وقت وہاں کے گورنر کو لکھا کہ مقوقس سے (جو پہلے مصر کا حاکم تھا) خراج کے معاملے میں رائے لو، اس پر تسلی نہ ہوئی تو ایک واقف کار قبطی کو مدینے میں طلب کیا اور اس کا اظہار لیا۔ یہ طریقہ جس طرح عدل و انصاف کا نہایت اعلی نمونہ تھا اسی طرح انتظام کی حیثیت سے بھی مفید تھا۔ (صفحہ 43)
ابو موسیٰ اشعریؓ نے جب سنہ 20 ہجری میں سوس کا محاصرہ کیا تو یزدگرد نے سیاہ کو حکم دیا کہ اس چیدہ رسالے کے ساتھ ابوموسیٰ کے مقابلے کو جائے۔ سوس کی فتح کے بعد سیاہ نے مع تمام سرداروں کے ابو موسیٰ سے چند شرائط کے ساتھ امن کی درخواست کی۔ ابو موسیؓ گو ان شرائط پر راضی نہ تھے لیکن کیفیت واقعہ سے حضرت عمرؓ کو اطلاع دی۔ حضرت عمرؓ نے لکھ بھیجا کہ تمام شرائط منظور کر لی جائیں چنانچہ وہ سب کے سب بصرہ میں آباد کیے گئے اور فوجی دفتر میں نام لکھا جا کر ان کی تنخواہیں مقرر ہو گئیں۔
ان میں سے چھ افسروں کی (جن کے نام یہ تھے سیاہ، خسرو، شہریار، شیرویہ، افرودین) ڈھائی ڈھائی ہزار اور سو بہادروں کی دو دو ہزار تنخواہ مقرر ہوئی (نوٹ: یاد رہے کہ حضرت عمر نے فتح مکہ کے پہلے دن جن لوگوں نے ہجرت کی ان کی تنخواہ تین ہزار، جو فتح مکہ کے دن ایمان لائے تھے ان کی دو ہزار اور جو لوگ جنگ قادسیہ اور یرموک میں شریک ہوئے تھے ان کی بھی دو ہزار درہم مقرر کی تھی۔ بعد کے مجاہدین کی 300 درہم اور بلا امتیاز مراتب عمومی تنخواہ 200 درہم تھی)۔ تستر کے معرکہ میں سیاہ ہی کی تدبیر سے فتح حاصل ہوئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یونانی اور رومی بہادر بھی فوج میں شامل تھے۔ چنانچہ فتح مصر میں ان میں سے پانسو آدمی شریک جنگ تھے۔ یہودیوں سے بھی یہ سلسلہ خالی نہ تھا، چنانچہ مصر کی فتح میں ان میں سے ایک ہزار آدمی اسلامی فوج میں شریک تھے۔ غرض حضرت عمرؓ نے صیغہ جنگ کو جو وسعت دی تھی اس کے لیے کسی قوم اور کسی ملک کی تخصیص نہ تھی یہاں تک کہ مذہب و ملت کی بھی کچھ قید نہ تھی۔ والنٹئیر فوج میں تو ہزاروں مجوسی شامل تھے جن کو مسلمانوں کے برابر مشاہرے ملتے تھے۔ فوج کے نظام میں بھی مجوسیوں کا پتہ ملتا ہے۔ (صفحہ 86 / 87)
ذمیوں کے ساتھ جو لطف و مراعات کی گئی تھی اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ ذمیوں نے ہر موقع پر خود اپنے ہم مذہب سلطنتوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ ذمی ہی تھے جو مسلمانوں کے لیے رسد بہم پہنچاتے تھے، لشکر گاہ میں مینا بازار لگاتے تھے، اپنے اہتمام اور صرف سے سڑک اور پل تعمیر کراتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جاسوسی اور خبر رسانی کرتے تھے۔ یعنی دشمنوں کے ہر قسم کے راز مسلمانوں سے آ کر کہتے تھے حالانکہ یہ دشمن انہی کے ہم مذہب عیسائی یا پارسی تھے۔ (صفحہ 129)

مزید پڑھیں۔  ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات پاکستان کے معاشی نظام کے لئے مثبت ثابت ہوں گے، بزنسمین پینل

بشکریہ: ہم سب ڈاٹ کام

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں