صدر پاکستان: غیر جانبداری پہلا آئینی تقاضا… اداریہ

ڈاکٹرعارف علوی

تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی 353 ووٹوں کی واضح اکثریت سے 13 ویں صدر مملکت منتخب ہو گئے۔ ان کے مدِمقابل مسلم لیگ نواز اور متحدہ مجلس عمل سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کے امیدوار مولانا فضل الرحمان 185 ووٹ لیکر دوسرے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن 124 ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔ صدر مملکت کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا۔ عارف علوی 9 ستمبر کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

2018ء کے عام انتخابات کا آخری مرحلہ  نئے صدر مملکت کے انتخاب کے ساتھ بخیر و خوبی مکمل ہو گیا۔ موجودہ صدر ممنون حسین کے عُہدے کی میعاد 8 ستمبر کو ختم ہونے والی ہے اس لیے توقع ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی 9 ستمبر کو ملک کے 13 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کراچی سے دوسری بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین اور اعلیٰ تعلیم یافتہ سیاست دان ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف میں شروع ہی سے وہ وزیراعظم عمران خان کے بااعتماد ساتھی رہے اور کراچی میں پارٹی کو مقبول بنانے میں انہوں نے نہایت فعال کردار ادا کیا۔

وہ واضح کر چکے ہیں کہ صدر منتخب ہونے کے بعد تحریک انصاف سے استعفیٰ دے دیں گے اور سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ وہ کسی ایک پارٹی کے نہیں پورے پاکستان کے صدر ہوں گے اور غیر جانبدار رہ کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔ یہ پاکستان کا وہ اعلیٰ منصب ہے جس پر زیادہ عرصہ فوجی صدر متمکن رہے۔ آئین کی رو سے صدر کا انتخاب بھی پانچ سال کے لیے ہوتا ہے مگر اکثر وزرائے اعظم اپنی مدت پوری نہ کرسکے یا ان کو وزارت عظمیٰ کی میعاد پوری نہیں کرنے دی گئی۔

مزید پڑھیں۔  ترک صدر کی جرمن کھلاڑیوں کے ساتھ تصاویر پر تنقید

منتخب صدور کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا تاہم مشرف کی آمریت کے بعد جمہوریت کے پٹڑی پر چڑھنے سے آصف علی زرداری اور ممنون حسین نے صدر پاکستان کے طور پر آئینی مدت مکمل کی۔ اگرچہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد اور آئین کی دفعہ 58 ٹو بی کے خاتمے سے صدر مملکت کے عہدے کی حیثیت بڑی حد تک محض نمائشی رہ گئی ہے۔ نو منتخب صدر کے پاس وہی اختیارات رہیں گے جو ان کے پیشرو صدر کے پاس تھے کسی کی خواہش پر نہ تو آئینی اختیارات بڑھائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی کم کیے جا سکتے ہیں۔ البتہ وقتاً فوقتاً ہمارے ہاں ایسے صدور بھی آتے رہتے ہیں جن کا دِل زیادہ اختیارات کے لیے مچلتا رہتا تھا۔  ایسے آخری صدر جنرل پرویز مشرف تھے لیکن انہیں استعفیٰ دے کر جانا پڑا۔

اس کے بعد انہوں نے اپنی سیاسی جماعت بنائی لیکن وہ عمر بھر کے لیے الیکشن لڑنے کے نااہل ہو چکے ہیں۔ جس کے خلاف انہوں نے اپیل کی ہوئی ہے جو زیر سماعت ہے۔ اب وہ اپنے خلاف غداری کے مقدمے کے خوف کی وجہ سے وطن واپس بھی نہیں آتے۔ دیکھنا یہی ہو گا کہ عارف علوی اپنے دورِ صدارت میں کیا کارنامے انجام دیتے ہیں۔ کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ ممنون حسین کی طرح کے صدر نہیں بنیں گے۔ وہ وفاق کے نمائندے کے طور پر چاروں صوبوں میں یکجہتی کی علامت ہوں گے۔

عمران خان نے جس طرح صوبائی گورنروں کو عوامی مسائل کے حل میں سرگرم رہنے کا اختیار دیا ہے اسی طرح صدر مملکت کو بھی فعال بنائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ عارف علوی نے پانی سمیت ملک کے کئی بڑے مسائل کی نشاندہی کر کے ان کے حل میں عملی کردار ادا کرنے کی بات کی ہے۔ ان کا تعلق متوسط طبقے سے ہے اور عام آدمی کے مسائل کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ جمہوری مزاج کے حامل ہیں۔ توقع ہے کہ منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی حکومت اور اپوزیشن میں توازن قائم رکھنے کے لیے جماعتی سیاست کی بجائے اجتماعی مفاد کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

مزید پڑھیں۔  پاکستان کو بے عزت کرنے سے اور پاکستان کی مدد کے بغیر امریکہ کے مسائل کم نہیں ہوں گے۔ سابق امریکی سفیر رچرڈ اولسن

آج ہماری سیاسی قیادتیں جمہوریت میں گرم و سرد دیکھنے کے بعد کافی میچور ہوچکی ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ وہ جمہوریت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی جس سے حکومت اور صدر دونوں اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہونگے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں