خُدا کی محبت اور ہیرا منڈی (تیسرا حصہ)… شہریار خاور

خدا کی محبت اور ہیرا منڈی، شہریار خاور

حصہ دوم کے لئے لنک پر کلک کریں۔

وہ جھانک تو میری آنکھوں میں رہی تھی مگر مجھے کچھ یوں محسوس ہوا کے جیسے اس کی نظر بہت گہرائی میں اتر کر میری روح کو ٹٹول رہی ہو۔ میں نے گھبرا کر نظریں چُرا لیں۔

میری آنکھوں میں دیکھنے سے ڈر لگتا ہے کیا ؟ اس نے مسکرا کر پوچھا۔

پھر میرا اثبات میں ہلتا سر دیکھ کر پوچھنے لگی۔

کیوں ڈر لگتا ہے ؟ سچ سچ بتاؤ۔

شاید تمہاری آنکھوں میں شرم نہیں ہے۔ میں نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔

ہاں صحیح کہتے ہو۔ میری آنکھوں میں شرم نہیں ہے۔ پر جانتے ہو کیوں نہیں ہے ؟

حیرت انگیز طور پر میری اس قدر سخت بات نے بھی اس کی پیشانی پرکوئی تیوری نہیں ڈالی تھی۔

طوائفوں کی آنکھ میں شرم نہیں ہوتی۔ میں نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔

نہیں ایسا نہیں ہے۔ وہ ہنس کر بولی۔

“جو لوگ اندر سے مر جاتے ہیں ان کی آنکھوں میں شرم نہیں ہوتی۔”

اس کی باتیں سن کر میں گھبرا گیا تھا۔ کوئی طوائف ایسی فلسفیانہ گفتگو بھی کر سکتی ہے۔ یہ میرے وہم و گمان میں بھی نا تھا۔ عجیب عورت تھی اور عجیب باتیں کر رہی تھی۔ شاید بیچاری کسی دماغی پریشانی یا بیماری کا شکار ہے۔

یہ سوچ ذہن میں آتے ہی میں نے آہستہ آہستہ دروازے کی جانب کھسکنا شروع کیا مگر میری یہ کوشش اس کی تیز نظروں سے نا چھپ سکی۔

“گھبراؤ نہیں میں پاگل نہیں ہوں۔ صرف حقیقت پسند ہوں۔” اس نے مجھے مسکرا کر دیکھا۔

ارے میں تو بھول ہی گئی کہ تم گاہک ہو۔ بجلی بجھا کر کپڑے اتاروں یا روشنی میں ہی اُتار دوں ؟

اس کے ہاتھ قمیض کی پشت پر غالباً زپ کھولنے کے لیے بڑھے اور زپ کھولنے کے بعد اس نے قمیض کا دامن پکڑ کر اونچا کیا۔

نہیں نہیں رہنے دیں۔ پلیز کپڑے نا اتاریں۔ اس کی سانولی کمر کی ایک جھلک نے ہی مجھے حواس باختہ کر دیا۔

کپڑے نا اُتاروں ؟ اس نے حیرانی سے میری طرف دیکھا۔

مزید پڑھیں۔  الیکٹرانک میڈیا اور طوائفیں

اوہ اچھا ! پہلا تجربہ ہے تمہارا ؟ فکر مت کرو۔ سب مجھ پر چھوڑ دو۔

نہیں پلیز ایسے نا کریں۔ بے بسی سے میری آواز روہانسی ہو چلی تھی۔

شاید اس کو میری حالت پر پھر ترس آ گیا۔ اس نے قمیض اتارنے کا ارادہ چھوڑا، مجھے کندھے سے پکڑا اور بستر پر بٹھا دیا۔

پھر ڈریسنگ ٹیبل کے پاس گئی شیشے کے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلا اور مجھے لا کر دیا۔ میرے حواس واپس آئے تو شرمندگی کا شدید احساس ہوا۔ میں اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا۔

کوئی بات نہیں۔ شاید ابھی تمہارا وقت نہیں آیا خواہش کے راستے پر چلنے کا۔ اُس نے مجھے تسلی دینے کی کوشش کی۔ پھر بھی میری نظریں نا اٹھیں تو اس نے بات کا رخ پلٹنے کی کوشش کی۔

تم پوچھ رہے تھے نا میرے مذہب کے بارے میں ؟ ہاں میں ایک عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئی۔ میرا باپ کمیٹی میں خاکروب کی نوکری کرتا تھا۔ آدمی بہت محنتی تھا مگر انتہائی بیوقوف بھی تھا۔

بیوقوف کیوں تھا ؟ میں نے دلچسپی سے پوچھا۔

“بیوقوف اس لیے کہ مجھے پڑھانا چاہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ تعلیم میری ذات سے خاکروبی کا لیبل اتار دے گی۔”

اس کے ہونٹوں پر ایک طنزیہ مگر افسردہ مسکراہٹ کا سایہ منڈلا رہا تھا۔

وہ غلط تو نہیں سمجھتا تھا۔ تعلیم میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ میں نے اس کے باپ کی حمایت ضروری سمجھی۔

ہاں تعلیم میں بہت طاقت ہوتی ہے مگر اتنی نہیں کہ معاشرے کی متعین کردہ آہنی حدود کو توڑ ڈالے۔ اس نے بدستور اسی افسردہ لہجے میں جواب دیا۔

میرے خیال میں تو ایسا نہیں ہے۔ تعلیم سب کچھ کر سکتی ہے۔ میں نے ایک طوائف کے مقابلے میں ہار ماننا مناسب نہیں سمجھا۔

تم تعلیم یافتہ ہو؟ کتنا پڑھے ہو؟ اس نے بات کا رخ میری جانب موڑ دیا۔

میں نے ایم اے کیا ہے انگریزی ادب میں۔ میں نے ایک احساس برتری کے ساتھ اس کو آگاہ کیا۔

مزید پڑھیں۔  فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کرنا ہماری جماعت کا درینہ خواب تھاٗ شاہ محمود قریشی

“میں نے بھی کیا تھا ایم اے فلسفے میں۔”

اس نے اتنے عام سے انداز میں اپنی تعلیمی قابلیت کا اظہار کیا کہ ایک لمحے کے لیے میں گھبرا گیا۔

فلسفے میں ماسٹرز اور بازار حسن؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔ میری حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔

میں پڑھائی میں بہت اچھی تھی۔ گھر کے حالات تو ایسے نہیں تھے کے مجھے پڑھایا جا سکتا مگر پھر مشن والوں نے میری قابلیت دیکھی تو وظیفہ جاری کر دیا۔ اسی وظیفے کی بدولت اور اپنی محنت کے بل بوتے پر میں یونیورسٹی تک پہنچ گئی۔ اس نے اپنی کہانی کا آغاز کیا۔

لیکن یونیورسٹی سے بازار حسن تک کیسے پہنچیں آپ؟ شہناز کی ذات میں میری دلچسپی بڑھتی جا رہی تھی۔

“یونیورسٹی سے بازار حسن مجھے محبت نے پہنچایا۔” اس نے مسکرا کر جواب دیا۔ پھر میری آنکھوں میں حیرت لپکتے دیکھ کر بولی۔

یونیورسٹی میں داخلہ لیتے وقت مجھے علم تھا کہ مخلوط تعلیمی ماحول کے سبب لڑکے لڑکیوں کا عشق لڑانا ایک معمول کی بات تھی مگر میرا مقصد کچھ اور تھا۔ میں تعلیم حاصل کر کے اپنے باپ کا غرور بننا چاہتی تھی۔ اپنا معاشرتی درجہ بلند کرنا چاہتی تھی۔

وہ بولتی چلی گئی اور بولتے بولتے اس کی کالی آنکھوں کے تالابوں میں بھنور پڑنے لگے۔

کمرے کا گناہ گار ماحول اور کمرے کے مکین کے دل میں اترتی گہری تاریک شام۔ میرا دل گھبرا گیا اور میں اٹھ کر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔

سامنے ہی ایک اوراونچا مکان تھا اور اس کی دو ایک کھڑکیوں کا رخ شہناز کے کمرے کی جانب تھا۔

ایک کھڑکی تو جانے کس زمانے کی بند پڑی تھی کے اس کی چوکھٹ پر چڑیوں نے دو گھونسلے بنا رکھے تھے۔ دوسری میں ہلکی ہلکی پیلی روشنی تھی اور کمرے کا داخلی دروازہ واضح نظر آ رہا تھا۔

میرے دیکھتے ہی دیکھتے دروازے کے پٹ کُھلے اور ایک لڑکی تقریباً دوڑتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ اس کے چہرے پر خوف واضح تھا۔

(جاری ہے)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں