ہم ڈیپریشن کا شکار کیوں ہیں؟

ہم ڈیپریشن کا شکار کیوں ہیں؟

ہمارے ارد گرد کے ماحول میں بے شمار ایسی پریشانیاں ہیں کہ ہم نا چاہتے ہوئے بھی ان کا شکار ہوجاتا ہے۔ فرد پر سب سے پہلے ماحقل کا اثر ہوتا ہے۔

نیویارک میں سنٹرل مانیٹرنگ کے مطابق ہمارے زیادہ پریشانی کی وجہ سے کینسر ہو سکتا ہے۔ ذہنی دباو ہمارے دماغ کو بےکار کر سکتا ہے۔ سانئس دانوں کے مطابق مسلسل ذہنی دباو دماغ ٹیومر جیسے بیماری بنا دیتا  ہے۔

ہم ہر وقت کسی بات پر پریشان کیوں رہتے ہیں؟ ہارورڈ یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق انسانی دماغ قدرتی طور پر ہر وقت کسی نہ کسی مسئلے پر توجہ مرکوز کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔

ہارورڈ کے ایک ماہر نفسیات نے رضاکاروں میں ہر وقت کی ذہنی پریشانی کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ وہ اُس وقت بھی پریشان رہتے ہیں جب پریشانی کی کوئی وجہ نہ بھی ہو۔

 ہمارے ذہن قدرتی طور پر تضادات کی طرف مائل ہوتے ہیں اور جب کوئی شے نایاب ہو جائے تو بعض اوقات وہ ہمیں ہر جگہ نظر آنے لگتی ہے۔

مثال کے طور پر کسی علاقے کی سیکیورٹی پر مامور شہری رضاکار کوئی بھی مشتبہ چیز دیکھتے ہیں تو پولیس کو کال کرتے ہیں، بعد میں جب وہاں جرائم کم یا ختم ہوجائیں تو وہ رضاکار غیر ضروری باتوں میں بھی خطرہ ڈھونڈتے لگتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات لوگوں کی ٹینشن اس لیے ختم نہیں ہوتی کیونکہ اُن کا دماغ مسلسل پریشانیوں کی تلاش میں رہتا ہے اور ٹینشن کی تعریف بدلتا رہتا ہے۔

ڈیپریشن دورکرنے کے لیے ایک دن میں 15 منٹ ورزش  اسے دور کرنے  میں مددگار ثابت ہوتے ہے۔  

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  بغاوت کرنیوالے زعیم قادری کی اہلیہ (ن) لیگ کی جانب سے مخصوص نشست پر رکن اسمبلی کا حلف اٹھانے کیلئے تیار

اپنا تبصرہ بھیجیں