ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا برطانوی حکومت سے نوازشریف کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ

نیب
loading...

نواز شریف اور ان کے خاندان کو لندن میں محفوظ پناہ گاہ فراہم نہ کی جائے ٗاگر ثابت ہوگیا کہ لندن میں جائیدادیں کرپشن کے پیسے سے خریدی گئی ہیں، تو ضبطگی کی کارروائی کی جانی چاہیے ٗ بیان

لندن: بدعنوانی کے خلاف جدوجہد کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے برطانوی حکومت سے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اسلام آباد کی احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں مجموعی طور پر 11 سال قید اور 80 لاکھ پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 سال قید اور 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ جبکہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سناتے ہوئے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو بھی ضبط کرنے کا حکم دیا۔

فیصلے کے بعد اپنے ایک بیان میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی برطانیہ میں موجود نمائندہ ریچل ڈیویس نے برطانوی حکام سے مطالبہ کیا کہ نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا میں لندن کی جن جائیدادوں کا تذکرہ ہے، ان جائیدادوں سے متعلق تحقیقات کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ برطانوی حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ شریف خاندان لندن میں کرپشن سے بنائی گئی جائیداد کواستعمال نہ کرسکے۔تنظیم نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ حکام برطانیہ میں ناجائز ذرائع سے بنائی گئی شریف خاندان کی دیگر ممکنہ جائیدادوں کاپتہ چلانے کی کوشش بھی کریں گے۔تنظیم کا کہنا تھا کہ یہ اہم ٹیسٹ کیس ہے کہ برطانوی حکومت کرپشن کے پیسے کے خلاف کریک ڈاؤن میں کتنی سنجیدہ ہے۔

مزید پڑھیں۔  ریحام خان کی کتاب پر بھارت میں بھی تجزئیے شروع

تنظیم نے اس سلسلے میں برطانیہ میں ہونے والی اس قانون سازی کا بھی تذکرہ کیا ہے کہ جس میں یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ برطانیہ میں جائیداد خریدتے وقت اصل مالکان کانام ظاہر کرنا ہوگا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کو لندن میں محفوظ پناہ گاہ فراہم نہ کی جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں