آسٹریا کے درالحکومت ویانا میں نصف درجن سے زائد مساجد بند، کئی امام بے دخل

آسٹریا

ویانا :آسٹریائی حکومت نے اپنے ایک فیصلے کے تحت ایسے اماموں کو ملک بدر کرنے فیصلہ کیا ہے، جنہیں بیرونی مالی امداد حاصل تھی۔

ویانا حکومت نے نصف درجن سے زائد مساجد بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریا کے چانسلر سیباستان کْرس نے اعلان کیا کہ اْن کے ملک میں ایسے کئی اماموں کی ملک بدری کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنہیں باقاعدگی سے غیر ممالک سے مالی معاونت حاصل رہی ہے۔

اسی طرح اْنہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی سات مساجد کی تالہ بندی کر دی گئی ہے، جہاں سے ملکی سلامتی کو خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔چانسلر کرس کے مطابق یہ کریک ڈاؤن مذہب اسلام کے خلاف نہیں بلکہ بعض افراد کی جانب سے اسلام کے سایے میں جاری سیاسی ایجنڈے کے خلاف کیا گیا ہے۔ آسٹریائی چانسلر کے مطابق دارالحکومت ویانا میں ایک ایسی مسجد کو بند کیا گیا ہے،

جو ترک قوم پرستوں کے زیر انتظام تھی۔ویانا حکومت نے مسلمانوں کے ایک مسلمان مذہبی گروپ عرب کمیونٹی کو بھی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مذہبی گروپ کم از کم چھ مساجد کا انتظام و انصرام رکھتا تھا۔ اب تک دو آئمہ کے معاہدے منسوخ کر دیے گئے اور پانچ دیگر کے معاہدوں کی تجدید نہیں کی گئی ہے،

دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی موجودہ حکومت کے وزیر داخلہ ہیربرٹ کیکل نے کہا کہ مساجد کو بند کرنے اور اماموں کی ملک بدری کے اقدامات 2015 کے ایک قانون کے تحت اٹھائے ہیں، جس میں مذہبی حلقوں کو غیر ملکی فنڈنگ کے حصول کی ممانعت کی ہے۔ کیکل کے مطابق چالیس اماموں کی تعیناتی کے معاملے کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں۔  ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ تاحال جاری

چانسلر سیباستیان کرس کے مطابق یہ فیصلہ مذہبی معاملات کے نگران ادارے کی کئی ہفتوں سے جاری تفتیشی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ آسٹریائی ادارے نے یہ تفتیش رواں برس اْن تصاویر کی اشاعت کے بعد شروع تھی جن میں ترکی کی حمایت یافتہ مساجد میں بچے پہلی عالمی جنگ کی گیلی پولی لڑائی کو پیش کرنے کے دوران مرنے اور مارنے کے مناظر کی اداکاری میں مصروف دکھائے گئے تھے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں