امریکی مفادات: بھارت کی کامیاب خارجہ پالیسی… اداریہ

امریکی وزیر خارجہ، بھارت کی خارجہ پالیسی

پاکستان سے بھارت پہنچنے والے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمس میٹس نے گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور وزیر دفاع نرملا ستھارامان سے ملاقات کی۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان فوجی اور سیاسی تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ جیمس میٹس اور نرملا ستھارامان نے اہم فوجی معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت بھارت امریکی حساس دفاعی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرسکے گا اور امریکہ سے ڈرون طیارے بھی حاصل کر سکے گا۔
بعدازاں بھارت اور امریکہ کے وزراء دفاع و خارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں اور ہاٹ لائن کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ نئے معاہدے سے امریکہ بھارت کو جدید ہتھیار فروخت کرسکے گا۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور وزیر دفاع جیمس میٹس کے دورہ بھارت کے دوران ممکنہ طور پر بھارت کو امریکی ہتھیاروں کی فروخت کی راہ ہموار ہو گئی۔
مائیک پومپیو نے دفاعی معاہدے پر دستخط کو “بڑا قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ بھارت کو جدید ہتھیار اور ڈرونز فراہم کرسکے گا۔ بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور بھارت کے فارن ہیڈز کے درمیان ہاٹ لائن قائم کرنے اور 2019ء میں بھارت کے مشرقی ساحل پر مشترکہ فوجی مشقوں پر بھی اتفاق کیا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے صحافیوں کے سوال کے جواب میں کہا کہ امریکہ روسی ہتھیاروں کی خریداری پر بھارت کو سزا دینے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس موقع پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ سرحدی دہشتگردی روکنے کے لیے دونوں ممالک کا ایک نظریہ ہے۔ امریکہ نے نیوکلیئرسپلائی گروپ میں بھارت کی شمولیت کے لیے کام کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
امریکہ اپنی بدلتی خارجہ پالیسی اور مفادات کے تحت اس وقت بھارت پر پوری طرح مہربان ہے اور اس محبت کے صدقے امریکہ نے بھارت کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دینے پر بھی غور شروع کردیا ہے۔ امریکہ نے ایران پر جو تازہ اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں اس کے بعد دنیا بھر کو خبردار کیا تھا کہ جو ملک بھی ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت کرے گا امریکہ اس پر بھی پابندیاں لگانے پر غور کرے گا لیکن امریکہ نے بھارت کو اس سے مستثنیٰ قرار دینے پر غور شروع کردیا ہے کہ وہ چاہے تو ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی جب عالمی پابندیاں عائد تھیں تو بھارت بڑی مقدار میں ایران سے تیل خرید رہا تھا۔ اس خریداری کی وجہ ایران اور بھارت کے کوئی خصوصی تعلقات نہیں تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ ایران تیل ادھار فروخت کررہا تھا۔ اب تک اس زمانے کی خریداری کی ایک بڑی رقم بھارت کے ذمے ہے، اب پھر اسے یہ موقع ملنے والا ہے کہ وہ دوبارہ ادھار پر ایرانی تیل خرید سکے۔
اس کے مقابلے میں پاکستان ہے جس نے 2013ء میں ایران کے ساتھ گیس کی پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کیا تھا۔ حکومت کے خاتمے سے تھوڑا عرصہ پہلے صدرآصف علی زرداری نے اس پائپ لائن کا سنگِ بنیاد بھی رکھا تھا۔ اس معاہدے کو پانچ سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا لیکن پاکستانی علاقے میں پائپ لائن نہیں بچھائی جاسکی۔ معلوم نہیں یہ پابندیوں کا خوف تھا یا کوئی اور وجہ تھی کہ پاکستان نے گیس پائپ لائن بچھانے کا کام شروع نہ کیا۔ اب پھر بھارت نے امریکہ کو آمادہ کرلیا ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدنے پر اعتراض نہ کرے اور امریکہ نے حامی بھرلی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا۔
کیا اسے بھارتی ڈپلومیسی کی کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس نے امریکہ کی شدید ایران دشمنی کے باوجود یہ سہولت حاصل کرلی ہے۔ دوسری جانب امریکہ کو یہ اعتراض بھی نہیں کہ بھارت روس سے جدید ترین دفاعی میزائل سسٹم خرید لے یہ انتہائی مہنگا نظام اس وقت دنیا کے دو ملک خرید رہے ہیں جن میں دوسرا ترکی ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ امریکہ کو ترکی پر تو اعتراض ہے کہ وہ روس سے یہ سسٹم کیوں خرید رہا ہے لیکن بھارت پر اسے کوئی اعتراض نہیں۔
امریکہ کے ساتھ ٹو پلس ٹو مذاکرات میں امریکہ اور بھارت کے درمیان فوجی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اگلے برس دونوں ملک مشرقی ساحل پر مشترکہ فوجی مشقیں بھی کریں گے۔ دونوں ملکوں میں ہاٹ لائن قائم ہوگی اور امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنانے کی کوشش بھی کرے گا۔ یہ کوششیں ویسے تو صدر اوباما کے دور سے جاری ہیں جب انہوں نے اپنی صدارت کے آخری دور میں نئی دہلی کا دورہ کیا تھا تو اعلان کیا گیا تھا کہ امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کی حمایت کرتا ہے۔
پاکستان نے بھی اس گروپ کی رکنیت کے لیے درخواست کررکھی ہے لیکن بھارت اس کی مخالفت کرتا ہے۔ دو سال پہلے جب یہ معاملہ گروپ کے روبرو پیش آیا تو چین نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کو بھی اس گروپ کی رکنیت دی جائے لیکن بھارت اور امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی اور چین کی مخالفت کے باعث بھارت بھی رکن نہ بن سکا۔ چین کا مؤقف تھا کہ پاکستان رکنیت کی تمام شرائط پوری کرتا ہے اس لیے اگر بھارت کو رکن بنانا ہے تو پاکستان کو بھی بنایا جائے۔
اب تک بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ معاملہ رکا ہوا ہے اب اگر امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دلانے کے لیے دوبارہ کوششیں کرے گا تو چین بھی متحرک ہوگا۔ اس لیے اب یہ وقت ہے کہ پاکستان بھی گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے دوبارہ کوششیں کرے اور گروپ کے رکن ملکوں کے ساتھ سفارتی لابنگ کا سلسلہ بڑھائے۔
اگر بھارت کو رکنیت ملتی ہے تو پاکستان کا بھی حق ہے۔ دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور یہ حق اس لیے بھی مقدم ہے کہ اس کے ایٹمی پروگرام کے متعلق ابھی تک کبھی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی جبکہ بھارت میں کئی ایٹمی حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں اموات واقع ہوچکی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے پہلے ہی امریکی حکام کی جانب سے دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے سخت لب و لہجہ اختیار کرلیا گیا جبکہ پاکستان کو سپورٹ فنڈ سے ملنے والی گرانٹ بند کرنے کی نوید بھی سنا دی گئی۔ امریکی وزیر خارجہ پاکستان کو دباؤ میں رکھنے والی سوچ کے تحت ہی گزشتہ روز اسلام آباد آئے اور اپنے دورے کے متعینہ شیڈول کے مطابق اسلام آباد میں مختصر قیام کے بعد بھارت چلے گئے تو یہ درحقیقت پاکستان سے ڈومور کے تقاضے ہی کا تسلسل تھا۔
اس تناظر میں پاکستان کی جانب سے ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے درست اور جاندار مؤقف اختیار کیا گیا اور امریکی وزیر خارجہ کو باور کرایا گیا کہ پاکستان بہرصورت اپنے مفادات کو مقدم رکھے گا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں