خُدا کی محبت اور ہیرا منڈی (چوتھا حصہ)۔۔۔ شہریار خاور

خدا کی محبت اور ہیرا منڈی، شہریار خاور

تیسرے حصہ کے لئے لنک پر کلک کریں۔

اُس نے اندر داخل ہوتے ہی مُڑ کر دروازہ بند کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے لات مار کر پھر سے دروازہ کھول دیا۔

میں نے دیکھا کے لڑکی کے پیچھے پیچھے ایک موٹا تازہ کالا بھجنگ آدمی بھی کمرے میں گھس گیا لیکن جہاں لڑکی کے چہرے پر سراسیمگی ناچ رہی تھی آدمی کے چہرے پر ایک شیطانیت آمیز غلیظ مسکراہٹ نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔

میرے دیکھتے ہی دیکھتے مرد نے لڑکی کے چہرے پر ایک زور کا طمانچہ مارا تو وہ اُلٹ کر بستر پر جا گری۔

نہایت فلمی قسم کا سین تھا۔ مرد نے قمیض کا دامن اٹھا کر غالباً ازار بند کھولنے کا ارادہ کیا تھا کہ اس کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔ آنکھ ماری اور آگے بڑھ کر کھڑکی بند کر دی۔

کیا دیکھ رہے ہو؟ میں نے چونک کر دایئں جانب دیکھا۔ شہناز پتا نہیں کب سے آ کر میرے ساتھ کندھا ملائے کھڑی تھی۔

وہ سامنے۔۔۔

وہ سامنے اس کمرے میں ایک آدمی اس لڑکی کی عزت لوٹ رہا ہے۔

میرا گلا خشک ہورہا تھا۔

عزت لوٹ رہا ہے؟ اچھا؟ شہناز نے ایک قہقہہ لگایا۔

“یہاں کے مکین اس بازار کے سمندر میں غرق ہونے سے پہلے عزتوں کا بوجھ اتار کر آتے ہیں۔”

لیکن وہ لڑکی ؟ میرا دل اب بھی اس لڑکی کی بیچارگی میں اٹکا ہوا تھا۔

وہ لڑکی بھی ایک طوائف ہے۔ زیادہ عرصہ نہیں ہوا ابھی اسے یہاں آئے۔ دس بارہ گاہک بھی بھگتا چکی ہے لیکن ابھی تک حقیقت سے سمجھوتہ نہیں کر سکی۔ بیوقوف سمجھتی ہے کہ جو چھوڑ گیا ہے وہ پچھتا کر واپس آ جائے گا۔ جلد اس کے اندر کی روح بھی مر جائے گی اور جب حقیقت پرسہ دینے آئے گی تو اس کی آنکھیں بھی بےشرم ہوجایئں گی۔

شہناز بولتی چلی گئی اور میں اس کی آنکھوں کے گہرے تالابوں کا کالا پانی چھلکنے کا انتظار کرتا رہا۔

مزید پڑھیں۔  مسلم لیگ ن نے تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کردیا

تم بتاؤ تمہاری آنکھیں کب بے شرم ہوئیں؟ میں نے پانی چھلکتا نا دیکھ کر تالاب میں کنکر پھینکا۔

میرا ایک کلاس فیلو تھا۔ اونچا لمبا گورا چٹا رنگ اور چہرے پر کشش بہت تھی۔ جب اپنی مونچھ کا ایک کونہ لبوں تلے دبائے میری طرف دیکھتا تو ایک دفعہ روح ہی کھینچ لیتا تھا۔

میں بھی اس زمانے میں بہت پرکشش تھی۔ وزن بھی کم تھا اور اپنے آپ کو بنا سنوار کر رکھنے کا سلیقہ بھی تھا۔ کافی عرصہ میں اس سے نظریں چراتی رہی اور پڑھائی میں دل لگانے کی کوشش کرتی رہی۔ مگر پھر آہستہ آہستہ مجھے ہر لفظ میں اس کا نام چھپا نظر آنے لگا اور آخرکار عقل ہار گئی۔ جس طرح سے ہمیشہ ہوتا آیا ہے دل جیت گیا۔

بولتے بولتے اچانک شہناز نے میری طرف دیکھا۔

تم اپنے بچپن میں مقناطیس کے ٹکڑوں سے تو ضرور کھیلے ہوگے؟ پھر میرے اثبات میں ہلتے سر کو دیکھ کر بولی۔

جب مقناطیس کے دو ٹکڑوں کو آپس میں قریب لے کر آؤ اور اگر ان کے قطب مخالف ہوں تو پہلے تو ہمیں آہستہ آہستہ ان کے درمیان کشش کا احساس ہوتا ہے مگر جب ان کا درمیانی فاصلہ بہت کم ہو جائے تو دونوں ٹکڑے لپک کر ایک دوسرے سے بغلگیر ہو جاتے ہیں۔ بس کچھ یوں ہی ہمارا قصہ بھی ہوا۔

کہاں پہلے تو میں دور دور بھاگتی تھی اور کہاں اچانک درمیان کے تمام فاصلے ختم ہوگئے۔ کینٹین، کلاس، ہر جگہ ہم ساتھ ساتھ ہوتے۔ میری زندگی کا سورج ہر صبح اس کی آنکھوں سے طلوع ہوتا لیکن کیا جانتی تھی کہ میری زندگی کی شام بھی اس ہی کے ہاتھوں لکھی تھی۔

” شہناز ؟ ٹائم پورا ہو گیا ہے۔ جلدی جلدی گاہک کو فارغ کرو۔ کیا حسن کی سبیل کھول رکھی ہے۔”

دروازہ زور سے بجا اور باہر سے دلال کی کرخت آواز گونجی تو ہم دونوں بری طرح چونک گئے۔

مزید پڑھیں۔  گوادر میں کچھوے مر رہے ہیں

میں نے کچھ بولنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ شہناز نے میرے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اونچی آواز میں کہا: گاہک ابھی اور بیٹھے گا ٹائم ڈبل ہوگا۔ فارغ ہوں گے تو میں خود آواز دے کر بلا لوں گی۔

ڈبل کیسے ہوگا ؟ اس کے پاس پیسے کہاں ہیں اور؟ دلال نے بدستور اسی کرخت لہجے میں جواب دیا۔

پیسوں کی فکر مت کرو۔ لڑکے نے جراب میں ایک ہزار کا نوٹ چھپا رکھا تھا۔ شہناز نے میری طرف ایک آنکھ دبا کر کہا۔

اوہ اچھا اچھا بہت بڑھیا۔ پھر کوئی مسلہ نہیں سکون سے بیٹھو۔ دلال نے ہنس کرجواب دیا اور چلا گیا۔

مگر میرے پاس تو اور پیسے نہیں۔ پانچ سو کا ایک ہی نوٹ تھا وہ بھی اس خبیث نے نکال لیا۔

میں نے جھجکتے ہوئے شہناز کے کان میں سرگوشی کی۔

کیوں فکر کرتے ہو؟ تم سے کس نے مانگے ہیں پیسے؟ شہناز نے مسکرا کر میری تھوڑی کو ہاتھ لگایا۔

میں اس کے قرب سے اُٹھتی حرارت اور اپنی تھوڑی پر اس کی نرم انگلیوں کا لمس محسوس کر کے کچھ شرما بھی گیا اور گھبرا بھی گیا۔ اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لیے میں نے ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس اٹھایا اور ایک گھونٹ بھر کر پوچھا۔

ہاں تم بتا رہی تھی کہ تمھیں اپنے کلاس فیلو سے محبت ہوگئی۔

ہاں مجھے اس سے محبت ہوگئی جو میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتے جواب دیا۔

غلطی کیوں؟ محبت دیکھ بھال کر تھوڑی ہوتی ہے۔ میں نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی۔

ہاں صحیح کہتے ہو تم۔ محبت دیکھ بھال کر نہیں ہوتی مگر محبت کی دیکھ بھال تو کرنی پڑتی ہے نا۔

اس نے اتنی گہری بات کر دی کہ آج اتنے سالوں بعد بھی یاد آتی ہے تو مجھ میں گہرائی ناپنے کی ہمت نہیں ہوتی۔

(جاری ہے)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں