امریکہ میں محکمہ دفاع کا ماہرین کو کیڑوں اور چمگادڑوں کی طرح کے ڈرون تیار کرنے کی ہدایت!

loading...

ہفتے کے روز پینٹاگون اور دوسرے اداروں نے ڈیفنس انڑپرائز  سائنس انیشی ایٹو کا آغاز کیا ہے۔ اور اس  انیشی ایٹو کے تحت 60 کروڑ کی روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ اس بجٹ کو قومی سلامتی اور ملکی دفاع کے لیے  کیڑوں اور چمگادڑوں کے ماڈل پر ڈرون بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔   اس منصوبے کے تحت  ٹیکنالوجی کے  ماہرین سے کہا گیا ہے کہ وہ اڑنے والے حشرات  یعنی کیڑوں  اور چمگادڑوں کے ماڈل پر ایسے ڈرون بنائیں جو بہت حد تک انسانی مداخلت سے ہوں اور آسانی سے  پیچیدہ پرواز کرسکیں اور ان کے لیے اہم مٹیریلز بھی تیار کیےجائیں- محکمہ دفاع کی خواہش ہے کہ ایسے  ڈرونز میں ایسی پاور بیمز بھی نسب کی جائیں  وہ لیزر اور مائیکرو ویو جیسی شعائیں نکال کر انرجی پہنچا سکے۔

اس ضمن میں محکمہ دفاع نے مزید ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس نظام کو زیادہ سے زیادہ خودکار ہونا چاہیے ۔ لہذا  اس متعلق ایسے سپوڑیو  سنسر، منی ایچر ٹیکنالوجی، فلائٹ کنٹرول اور دیگر ضروری ٹیکنالوجی تیار کی جائے جو ان روبوٹس کو زیادہ سے زیادہ خودمختار اور خود کار بنانے میں مدد کرے ۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق کیڑوں اور چمگادڑوں کی طرح کے ڈرون بنانے کا مقصد  یہ ہے ایسے ڈرونز عام ڈرون سے زیادہ سمارٹ ہوں اور ان کے ذریعے کیے گے مشنز بھی خفیہ رہیں۔  ان ڈرونز  کو خفیہ اہداف کو نشانہ بنانے اور انکی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  نقیب اللہ قتل کیس، راؤ انوار کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں