متحدہ مجلس عمل کا کوئی مستقبل نہیں،سراج الحق اور مولانا فضل الرحمان کےاتحاد پر حیرت ہوئی ہے ،پرویزخٹک

پرویزخٹک

تحریک انصاف دینی ایجنڈے کے تحت اقتدار میں نہیں آئی مگر پھر بھی ہم دینی اقدامات کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے اقدامات کئے ہیں،وزیراعلی خیبرپختونخوا

پشاور:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواپرویز خٹک نے کہا ہے اسلام کے نام پر ووٹ لینے والی ایم ایم اے نے اپنے دور حکومت میں اسلام کے لیے کچھ بھی نہیں کیاہم چیلنج کرتے ہیں کوئی ایک قانون یا کام دکھا دیں جو ایم ایم اے نے اسلام کیلئے کیا ہو۔

 تحریک انصاف دینی ایجنڈے کے تحت اقتدار میں نہیں آئی مگر پھر بھی ہم دینی اقدامات کو اپنا فریضہ سمجھتے ہوئے اقدامات کئے ہیں ہم نے نصاب میں ختم نبوت کو شامل کرنے کے ساتھ ساتھ سود اورجہیزکے خلاف قانون سازی سمیت دیگر اہم اقدامات کئے ہیں ۔مولانا کو ہمارے ان اقدامات میں بھی سازش نظر آتی ہے کیونکہ اُن کی سیاست خطرے میں ہے ۔

پرویزخٹک برمنگھم میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایم ایم کا پاکستان کی سیاست میں کوئی مستقبل نہیں کیونکہ انہوں نے اسلام کے نام پر حکومت تو بنائی مگر اپنے پانچ سالہ دور میں اسلام کی کوئی خدمت نہیں کی ۔

اس کے برعکس تحریک انصاف کی قیادت میں موجودہ صوبائی حکومت نے دین کیلئے بہت سے کام کئے ہیں۔ نجی سود اور غیر شرعی جہیز کے خلاف قانون سازی کی اور اُسے غیر قانونی قرار دیا ۔

ایک سوال کے جواب میں پرویزخٹک نے کہا کہ وہ لوگ جو دن رات کرپشن اور بے ایمان لوگوں کے خلاف باتیں کرتے رہے ، اُن کے مولانا فضل الرحمن سے اتحاد کرنے پر افسوس ہے ۔ ہم اُنہیں مشورہ دیتے ہیں کہ معمولی فائدے کی خاطر اس اتحا دکا حصہ نہ بنیں ۔

مزید پڑھیں۔  8th Aug 2018 - آج کا کارٹون

ترقیافتہ ممالک میں سیاست ان ایشو ز پر ہوتی ہے کہ آپ کی تعلیمی پالیسی کیا ہو گی ، ہیلتھ پالیسی کیا ہو گی ۔ بیروزگاری کا کیا ہوگا ان چیزوں پر دُنیا میں سیاست ہے جبکہ ہمارے ہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر سیاست ہو تی ہے نہ ملک کا سوچتے ہیں اور نہ آنے والے کل کا سوچتے ہیں کاش ہمارے ملک کے عوام کو سمجھ آجائے کہ جب تک یہ ادارےٹھیک نہیں ہوں گے تب تک خوشحالی نہیں آسکتی ۔ جس دن ملک میں ایک نظام بن جائے ادارے ٹھیک ہو جائیں تو ملک ترقی کرے گا اس میں کوئی بڑی سائنس نہیں۔عمران خان کی سوچ ہے کہ اداروں کو طاقتور بنایا جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں