عدالت کا گواہ سے اسحاق ڈار سے متعلقہ تمام ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم

اسحاق ڈار
loading...

اسحاق ڈار اثاثہ جات ریفرنس: گواہ محمدعظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی، سماعت ملتوی

اسلام آباد:احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت کے دوران وکیل صفائی قاضی مصباح کی گواہ محمد عظیم پر جرح مکمل نہ ہوسکی اور عدالت نے گواہ سے اسحاق ڈار سے متعلقہ تمام ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

 احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ محمد عظیم نے بتایا کہ وہ 2001 سے 2004 تک نجی بینک میں ڈیٹا اِن پٹ آفیسر رہے اور پھر سپروائزر بنا دیئے گئے۔

گواہ نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی اسٹیٹمنٹ آف اکاؤنٹ انہوں نے نہیں بنائی بلکہ وہ کمپیوٹر جنریٹڈ تھی، جس کی ٹرانزیکشنز کی تاریخ انہیں یاد نہیں۔محمد عظیم کے مطابق غیر ملکی ٹرانزیکشنز کی انٹری انہوں نے نہیں کی اور نہ ہی اس پر ان کے دستخط ہیں۔

انہوں نے کہاکہ انہوں نے ٹرانزیکشن کا عمل نہیں کیا بلکہ اسے سپروائز کیا۔گواہ محمد عظیم کے مطابق والیوم چار میں لگے چیک پر کلیئرنگ کے ساتھ ان کے دستخط ہیں اور بینک ٹرانزیکشن رپورٹ انہوں نے بینک ریکارڈ کو سامنے رکھ کر خود تیار کی۔وکیل صفائی نے گواہ محمد عظیم سے استفسار کیا کہ ‘سب انٹریاں آپ کی مرضی سے ہوئیں یا آپ کو کوئی ہدایت دی گئی تھی؟

جس پر محمد عظیم نے جواب دیا کہ مجاز اتھارٹی نے ہدایت دی تھی کہ کیش، کلیئرنگ اور ٹرانسفر کی الگ الگ انٹریاں کی جائیں۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے گواہ سے سوال کیا کہ 28 جون 2011 کا چیک کس کے لیے جمع ہوا؟

مزید پڑھیں۔  جرمنی میں جرائم کی شرح 30برسوں میں پہلی بار نچلی ترین سطح پرآگئی

گواہ نے بتایا کہ یہ چیک ہجویری ٹرسٹ کیلئے جمع ہوا جبکہ 27 نومبر 2012 کو ہجویری ٹرسٹ کے لیے 10 لاکھ روپے کا چیک جمع ہوا۔وکیل صفائی نے سوال کیا کہ کیا یہ چیک آپ کی برانچ کا ہے اور اصل چیک آپ کے پاس موجود ہے؟۔گواہ محمد عظیم نے بتایا کہ یہ درست ہے کہ وہ چیک ان کی برانچ کا ہے اور اصل چیک موجود ہے۔

سماعت کے دوران گواہ محمد عظیم پر وکیل صفائی کی جرح مکمل نہ ہوسکی جس کے بعد عدالت نے گواہ کو اسحاق ڈار سے متعلقہ تمام ریکارڈ ساتھ لانے کا حکم دیتے ہوئے آمدن سے زائد اثاثوں کے ضمنی ریفرنس کی سماعت 16 مئی تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ استغاثہ کے گواہ محمد عظیم کے مرکزی ریفرنس میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کو ہی ضمنی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا تھا۔مذکورہ کیس کی 2 مئی کو ہونے والی گذشتہ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ شیر دل خان کا بیان قلمبند کرکے جرح مکمل کرلی گئی تھی، جبکہ محمد عظیم پر جرح نہیں ہوسکی تھی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں