عید کے تین روز میں افغان فورسز کے ساتھ جنگ بندی کااعلان

افغان طالبان
loading...

اگر طالبان پر حملہ ہوا تو دفاع کیا جائیگا ٗ غیر ملکیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں ٗ طالبان سربراہ کی ہدایت
پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام لانے کیلئے حالیہ اقدامات کی حمایت کا اعلان کرتا ہے ٗترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل

کابل/اسلام آباد: افغان طالبان کے سربراہ مولوی ہبت اللہ نے عید کے تین روز میں افغان فورسز کے ساتھ جنگ بندی کااعلان کیا ہے ۔طالبان کی جانب سے ہفتہ کو جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا کہ طالبان کی قیادت نے عید کی نماز ٗ دیگر مذہبی رسومات اور عید پر امن طریقے سے گزار نے کیلئے اپنے جنگجوؤں کو افغان فورسز کے خلاف حملے نہ کر نے کا حکم دیا ہے تاہم اگر طالبان پر حملہ ہوتا ہے تو وہ اپنا دفاع کرینگے ۔

بیان میں کہاگیا کہ جنگ بندی کا اطلاق غیر ملکی فوجیوں پر نہیں ہوگا بلکہ ان کے خلاف لڑائی جاری رہے گی ۔طالبان سے کہاگیا ہے کہ غیر ملکیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھیں اور جہاں بھی نظر آئیں ان پر حملے کئے جائیں ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے صدر اشرف غنی نے رمضان کی 27اور عید کے بعد پانچ روز تک جنگ بندی کا اعلان کیا تھا امریکی فوج نے بھی افغان حکومت کے اعلان کے بعد کارروائیاں روکنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

طالبان کے بیان میں کہا گیا کہ فوجی کمیشن کے ذمہ داران اور طالبان کے گور نروں کو ہدایت کی ہے کہ ان قیدیوں سے متعلق قیادت کو معلومات فراہم کی جائیں جو آئندہ کیلئے افغان فورسز نے نہ جانے اور طالبان کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینے کی یقین دہانی کرائے تاکہ ان کی رہائی کے بارے میں فیصلہ کیا جاسکے ۔

مزید پڑھیں۔  عید الفطر پر شہریوں کو بذریعہ ایس ایم ایس نئے کرنسی نوٹوں کی فراہمی کا فیصلہ

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کے جیلوں میں جنگی یا دیگر جرائم میں گرفتار کئے گئے قیدیوں کے ساتھ عید کے دنوں میں ان کے خاندانوں کی ملاقاتوں کا انتظام کیا جائیگا۔ وہ عام لوگوں کے اجتماعات میں جانے سے گریز کریں تاکہ ان کی موجودگی وہاں غیر ملکی افواج کی بمباری کا سبب نہ بن سکے ۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے اپنے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام لانے کیلئے حالیہ اقدامات کی حمایت کا اعلان کرتا ہے ۔ بیان میں کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نہیں کیا لیکن ان کا بیان صدر اشرف غنی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ان کا بیان جاری ہواہے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں