کشمیریوں کی خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کرے ،راجہ فاروق حیدر

آزادجموں وکشمیر

اسلام آباد:آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ ملک کو مستقبل میں پانی کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے

جس کا آغاز ہو چکا ہے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی میٹنگ میں ان خطرات اور مسائل کی نشاندہی کی تھی جن کا آج سامنا کرنا پڑھ رہا ہے،پانی کو ذخیرہ کرنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے کم سے کم نقصانات کے لیے پاکستان کی تمام اکائیوں کو گرین پیکٹ پر متفق ہونا پڑیگا جس سے پانی اورماحول کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔
پاکستان کی آبی و ہائیڈل کی ضروریات پوری کرنے پہلے منگلا ڈیم کیلئے کشمیریوں نے قربانی دی پھر نیلم جہلم کیلئے قربانی دی اور اب ددھنیال کے مقام پر بھی پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے پر کام شروع ہونے جا رہا ہے ، کشمیریوں کی خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کرے ، معاشی، سیاسی اور اقتصادی طور پر مضبوط ہوتاکہ دنیا میں بہتر انداز میں ہماری وکالت کر سکے ۔
بالائی علاقوں میں درختوں کی کٹائی روکنے کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع کی فراہمی ،بڑے پیمانے پر شجر کاری کے لیے آزادکشمیر سمیت دیگر علاقوں کو وسائل کی فراہمی ناگزیر ہے ، وہاں رہنے والی آبادی کا زندہ رہنے کا دارومدار لکڑی پر ہے مقتدر اداروں کو آبی بحران کا ادراک کرتے ہوے اس پر قابو پانے کے لئے ٹھوس حکمت عملی مرتب کرنا ہو گی۔پانی زندگی ہے ہمیں تمام متعلقہ اداروں اور میڈیا کو استعمال کرتے ہوے پانی کے استعمال کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی ایک منظم مہم کی ضرورت ہے۔
چاروں صوبوں،آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو اس اہم معاملے پر ایک خصوصی پروگرام کی جانب بڑھنا ہو گا جسے گرین پیکٹ کا نام دیا جا سکتا ہے۔بھارت کی آبی جارحیت روکنے کیلیے حکومت بین الاقوامی سطح پر موثر لابنگ کرے بصورت دیگر اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں ،کشمیر پانیوں کا منبع ہے اور پاکستان کے لیے زرعی و ماحولیاتی زندگی کی علامت ہے معاہدہ سندھ طاس پر عملدرآمد کے لیے تمام بین الاقوامی ذرائع استعمال کیے جائیں۔
اس دفعہ بارشیں اور برفباری میں کمی کے باعث پورا ملک متاثر ہو رہا ہے جس کے تدارک کے لیے بروقت اقدامات اٹھانا ناگزیر ہیں اپنے ایک جاری کردہ بیان میں راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادحکومت اس اہم معاملے پر پہلے سے ہی الرٹ ہے ہم نے اس سال 28 ہزار ایکڑ رقبے پر شجرکاری کی مزید وسائل اور تکنیکی مدد فراہم کی جائے تو اس کا دائرہ کار مزید بڑھایا جا سکتا ہے مرکزی حکومت شجرکاری اور ماحول دوست اقدامات کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرے اور اس ضمن میں اقدامات اٹھانے والی اکائیوں کو بھرپور وسائل فراہم کیے جائیں آزادکشمیر کے خالی رقبہ جات پر شجرکاری کے لیے آزادکشمیر حکومت کو مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا کو جس نئے بحران کا سامنا یے وہ گلوبل وارمنگ کا ایشو ہے دنیا بھر میں ماہرین اس نئے عفریت کا سامنا کرنے کیلیے ٹھوس اقدامات کر رہے ہیں مگر ہم نے ابھی تک اسے ہائی رسک کے طور پر نہیں لیا ہے مگر اب جبکہ اطراف سے آوازیں اٹھنا شروع ہوئی ہیں اور ہمارے آبی ذخائر کا لیول انتہائی سطح پر آ چکا ہے ہمیں اس جانب فوری توجہ دینا ہو گی۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ہو رہے ہیں .
انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر کے بالائی علاقوں میں رہنے والے افراد کی بڑی تعداد کازندہ رہنے کا دارومداراور بنیادی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے جنگلات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں جس وجہ سے جنگلات کی کٹائی بڑھ رہی ہے انہوں نے کہا اس کو روکنے کیلیے اگر انہیں توانائی کے سستے متبادل ذرائع فراہم کر دئیے جائیں تو اس اہم مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب،سندھ،خیبر پختونخواہ،بلوچستان اور گلگت بلتستان کو اس اہم معاملے پر ایک گرین پیکٹ کی طرف جانا ہو گا اور اپنے تجربات ایکدوسرے سے شئیر کر کے آگے بڑھنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جدید ترین سروے یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ملک میں واٹر لیول کی سطح بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے جو ایک الارمنگ صورتحال ہے اس لیول کو مزید کم ہونے سے بچانے کیلیے بھی ہمیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کیلیے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی ضرورت ہے جس کے لئے زیادہ سے زیادہ فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس سال بارشوں اور برفباری کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں پانی کا بحران ہے حتی کہ آزادکشمیر میں بھی قدرتی چشمے تیزی سے خشک ہو رہے ہیں ان سب کا ادراک کرتے ہوے ہمیں اپنے گردوپیش پر خصوصی توجہ دینا ہو گی تاکہ ہم اپنی آئندہ نسلوں کو ایک محفوظ دنیا دے کر جائیں۔وزیر اعظم نے اس حوالے سے بھارت کی جانب سے کی جانے والی آبی جارحیت کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوے کہا کہ کشن گنگا سمیت بھارت کئی ایسے آبی منصوبوں پر عملدرآمد کر رہا ہے جو سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور کن کا مقصد علی العلان پاکستان کے آبی ذخیروں کو نقصان پہنچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر ایک ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے تاکہ بھارت کی آبی جارحیت کو روکا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب قوم میں نئے آبی ذخائر کے بارے میں بھی شعور پیدا کرنا ہے تاکہ انہیں نئے ڈیموں کی اہمیت کا احساس ہو۔ انہوں نے کہا ہمیں جنگی بنیادوں پر نئے ڈیموں پر کام کرنا ہو گا تاکہ ملک کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  گوجرانوالہ ٗپسند کی شادی کی رنجش پر فائرنگ سے زخمی ہونیوالے زیر علاج 2 افراد دم توڑ گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں