بھارت ہم جنس پرستی کے قانون پر نظر ثانی کی جائے گئ

ہم جنس پرستی

بھارت ہم جنس پرستی کے قانون پر نظر ثانی کی جائے گئ، انڈین سپریم کورٹ

بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کے قانون کے سیکشن 377 پر نظرثانی کرنے کا اعلان کردیا۔بھارتی میڈیاکے مطابق سپریم کورٹ میں ہم جنس پرستوں نے پٹیشن دائرکی،اور اس میں موقف اختیار کیا گیا کہ جنسی ترجیحات کی وجہ سے انکی زندگی پولیس کے خوف میں گزررہی ہے۔جس پر سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کے قانون کے سیکشن 377 کے دوبارہ جائزہ لینے کااعلان کرتے ہوئے مرکزکوپٹیشن پرردعمل کیلئے نوٹس جاری کردیا،سیکشن 377کے تحت 2013میں سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کوجرم قراردیاتھا۔

یاد رہے کہ سیکشن 377 ہم جنس پرستی کو جرم تصور کرتا ہے اور  اس کے لیےسزا تجویز کرتا ہے۔ یہ قانون 1861 میں  انڈیا میں برطانوی راج   کے دوران نافذ کیا گیا تھا۔  یہ قانون ہم جنس پرستی کو ایک  ایسا  عمل قرار دیتا ہے ،   جو فطری اصولوں کے خلاف ہے۔ اور انڈین سپریم کورٹ نے اس سے پہلے 2013 میں ترمیم کے حوالے سے کہا تھا  کہ  قانون میں ترمیم پارلیمنٹ کا کام ہے سپریم کورٹ کا نہیں۔  تاہم اب ایک بار پھر سے سپریم کورٹ اس قانون پر نظر ثانی کا سوچ رہی ہے۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے ،عالمی ضمیر سو رہا ہے ‘ملائیکہ نور

اپنا تبصرہ بھیجیں