مقبوضہ کشمیر، خواتین کو ہتھکڑیاں لگا کرعدالت میں پیش کرنے کا واقعہ، کشمیری رہنماؤں کی شدید مزمت

مقبوضہ کشمیر
loading...

کشمیری رہنماؤں نے خواتین کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کرنے کو کرنے کو لاقانونیت ،پولیس راج اور اخلاقی دیوالیہ پن قراردیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے ۔

گزشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے دختران ملت کی سات  خواتین اراکین کو گرفتار کیا گیا اور جب انہیں جوڈیشل ریمانڈ حصول کیلئے عدالت میں پیش کیا گیا تو ان خواتین کو ہتھکڑیاں پہنائی گئیں تھیں۔ جس پر کشمیر رہنمائی کی جانب سے اس عمل کی شدید مزمت کی گئی ہے۔ کشمیری رہنماؤں نے ایسا کرنے کو لاقانونیت ،پولیس راج اور اخلاقی دیوالیہ پن قراردیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی ہے ۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سرینگر میں جاری ایک مشترکہ بیان میں خواتین اراکین کو عدالت میں ہتھکڑیاں پہنا کر پیش کرنے کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم بالخصوص خواتین کو حق خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں بدترین اذیتوں کے علاوہ قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا کیا جارہا ہے جو کہ سراسر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت اسکی مقامی کٹھ پتلیوں کو کم سے کم خواتین کا لحاظ کرنا چاہیے تھا، مگر اقتدار کے نشے میں چور ظالموں کے یہ مقامی مکھوٹے اپنے ہی قانون کی مٹی پلید کررہے ہیں۔ خواتین کے تحفظ اور حقوق کی دہائی دینے والے حکمران اپنے ہی ہاتھوں خواتین کی تذلیل کرنے میں پیش پیش ہیں۔ حریت قائدین نے کہا ان اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ تو کشمیری عوام کو اور نہ ہی حریت قائدین اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی سے دستبردار ہوں گے۔

مزید پڑھیں۔  نواز شریف، مریم ،کیپٹن(ر) صفدر نے احتساب عدالت کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا،اپیلیں (کل) سماعت کیلئے مقرر

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں