اسلام آباد ہائی کورٹ نے بنی گالہ اورسیکٹرای الیون میں تعمیرات کوغیر قانونی قراردے دیا

بنی گالہ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں بنی گالہ اورسیکٹرای الیون میں تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔جسٹس اطہر من اللہ اس کیس کے سربراہ ہیں۔ جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی پرمشتمل لارجربنچ نے فیصلہ سنایا جس میں بنی گالہ اورسیکٹرای الیون میں تعمیرات کوغیرقانونی قراردے دیا گیا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ماسٹرپلان کی خلاف ورزی کر کے بنائی گئی عمارات کو مسمار کر دیا جائے گا، نظریہ ضرورت قانون کی حکمرانی کے لیے اجنبی ہے، قانون کی حکمرانی کے بجائے افراد کی حکمرانی کی یہ بہترین مثال ہے جب کہ انصاف میں تاخیرکا مطلب انصاف سے انکارہے۔

اس سے قبل شہزادہ سکندرالملک اوردیگرشہریوں نے بنی گالہ اورای الیون میں تعمیرات کوچیلنج کیا تھا۔ درخواست میں موقف کہاگیا تھا کہ بنی گالہ میں کمرشل اورای الیون میں طویل المنزلہ عمارات کی تعمیرماسٹرپلان کی خلاف ورزی ہے اورماسٹر پلان کو نقصان پہنچا کرمراعات یافتہ طبقے کوفائدہ پہنچایا گیا۔

Spread the love

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں