پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرزکی تحقیقات،6 ارب 20 کروڑوصول

ایف بی آر

مذکورہ رقم ایف بی آر نے 15 کیسز میں وصول کی ٗ4 ارب 64 کروڑ روپے کی ریکوری ابھی بھی باقی ہے،رپورٹ

اسلام آباد:پاناما پیپرز اور پیراڈائز پیپرز کے سکینڈلز منظر عام پر آنے کے بعد ان کی تحقیقات کرنے والے حکام نے بتایا ہے کہ تقریباً 2 برس بعد ان سکینڈلز میں ملوث افراد سے ٹیکس وصولیاں کرلی گئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فیڈل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے موصول ہونے والے اعداد و شمار میں یہ ظاہر ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کے لارج ٹیکس پیئر یونٹ (ایل ٹی یو) نے مذکورہ افراد کے خلاف مشق کے آغاز کے بعد سے اب تک پہلی مرتبہ ٹیکس وصولی کی ہے۔ایف بی آر نے 15 کیسز میں سے 6 ارب 20 کروڑ کی رقم وصول کی ہے جبکہ 4 ارب 64 کروڑ روپے کی ریکوری ابھی بھی باقی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد کے ایک بڑے کاروباری خاندان کو 6 نوٹسز جاری کیے گئے تھے جن میں ان سے 4 ارب 60 کروڑ روپے ادا کرنے کا کہا گیا تھا تاہم ان سے اب تک صرف ایک کروڑ 50 لاکھ روپے ہی وصول ہوپائے۔

کراچی کی ایک کاروباری شخصیت سے 3 ارب 16 کروڑ 40 لاکھ روپے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا اور کراچی کے ایل ٹی یو نے یہ پورا ٹیکس وصول کیا۔اس کے علاوہ کراچی کی ہی ایک اور کاروباری شخصیت سے 2 ارب 69 کروڑ 10 لاکھ روپے ٹیکس کا مطالبہ کیا گیا تھا جو کراچی کے ایل ٹی یو نے پورا وصول کیا ٗدیگر پیش رفت میں کراچی کے ایل ٹی یو نے شہرِ قائد کی ایک اور کاروباری شخصیت سے 35 کروڑ روپے ٹیکس وصول کیا۔واضح رہے کہ پاناما پیپرز اسیکنڈل منظر عام پر آنے کے بعد ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ نے آف شور کمپنیوں کے مالکان کو کْل 4 سو 44 نوٹسز جاری کیے تھے۔دستاویزات کے مطابق 151 پاکستانیوں کو 73 کیسز میں ارسال کیے جانے والے نوٹسز موصول نہیں ہوئے تھے۔

مزید پڑھیں۔  حکومت نے پی ٹی وی کے چیئرمین کے عہدے پر عطاء الحق قاسمی کی تقرری میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا،چیف جسٹس

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں