ٹاسک فورس اور سرمایے کی واپسی… اداریہ

ٹاسک فورس، سرمایے کی واپسی

ملک کی لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے قائم ٹاسک فورس نے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کو ہدف بنایا گیا ہے۔

غیرقانونی رقم کی اطلاع دینے والے عام افراد کو رقم کا 20 فیصد دیا جائے گا۔ ٹاسک فورس بیرون ملک منتقل کی گئی دولت کی واپسی کے لیے ان ممالک کے ساتھ حکومت پاکستان کے معاہدوں کا جائزہ لے گی۔ قانونی معاملات کو حتمی شکل دینے کے بعد ملوث افراد کی فہرست متعلقہ حکومتوں کے سامنے رکھی جائے گی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی اور ٹاسک فورس کے سربراہ کے مطابق غیرقانونی دولت کی نشاندہی اور معلومات فراہم کرنے والے عام افراد بھی کروڑ پتی بن سکتے ہیں۔ حکومت نے ابتدائی طور پر ایک سو کرپٹ ترین افراد پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن میں سیاستدان، بیوروکریٹس اور کاروباری شخصیات شامل ہیں۔

پاکستان سے لوٹ کر بیرونی ممالک میں بنائے گئے اثاثے، بینک اکاؤنٹس اور جائیدادیں اپنے ملک کے ساتھ غداری ہیں۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم اور منشور میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ لوٹی ہوئی رقم پاکستان واپس لائیں گے۔ لوٹی ہوئی رقم واپس لانا کوئی آسان کام نہیں۔ اس میں بہت زیادہ پیچیدگیاں ہیں۔ بھارت میں مودی نے بھی 2014ء میں اس بات کو باقاعدہ اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنایا تھا کہ وہ بھارت سے لوٹ کر باہر بھیجا گیا 80 لاکھ کروڑ بھارتی روپیہ واپس لے کر آئیں گے۔

دو تہائی سے زائد اکثریت رکھنے اور چار سال سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود مودی کوئی ٹھوس نتائج حاصل نہیں کرسکے۔ تاہم حال ہی میں دو ممالک میں کرپشن کے خلاف کسی حد تک کامیاب تجربا ت بھی سامنے آئے ہیں۔

مئی 2018ء میں ملائیشیا میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مہاتیر محمد نے نجیب رزاق حکومت کی کرپشن کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اپنے خاندان کے کئی افراد سے اربوں ڈالرز کی رقم واپس لی۔ ان دو ملکوں کے ساتھ ساتھ کئی ایسے ممالک بھی سوئزرلینڈ کے بینکوں سے رقم واپس لانے میں کامیاب رہے جہاں کرپشن اپنی انتہاؤں پر تھی۔

فلپائن نے سوئس بینکوں سے ایک ارب ڈالرز، پیرو نے 2007ء میں 174ملین ڈالرز، قازقستان نے 115 ملین ڈالرز، میکسیکو نے 2008ء میں 84 ملین ڈالرز، 2012ء میں انگولا نے 43 ملین ڈالرز اور جون 2018ء میں سوئس بینکوں نے نا ئیجیریا کی حکومت کو 1.2 ارب ڈالرز واپس کیے۔

مزید پڑھیں۔  العزیزیہ ریفرنس کیس: سماعت بغیر کارروائی کل تک ملتوی

یہ تمام مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ اگر کسی ملک کی حکومت اس بارے میں سنجیدہ ہو تو قومی اور بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے لوٹی گئی رقم واپس لانا ممکن ہے۔ ابھی چند روز پہلے ایف آئی اے کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانیوں نے 150 ارب ڈالرز (18300 ارب روپے) کی خفیہ جائیدادیں اور اثاثے بنائے ہوئے ہیں۔

2015ء میں بھی پاکستان کے چند بڑے اخبارات نے دبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کی بنیا د پر ایک خبر شائع کی تھی جس کے مطابق 2013-2014 میں دبئی میں رئیل اسٹیٹ یا پراپرٹی کے شعبوں میں پاکستانیوں کی جانب سے 16 ارب درہم سے بھی زائد کی سرمایہ کاری کی گئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق نائن الیون کے بعد مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کے بینکوں میں بھاری رقوم کی منتقلی اور اخراج پر جانچ پڑتال کا عمل سخت بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں دنیا بھر سے لوٹا گیا کالا دھن اس وقت لکسمبرگ، سنگا پور، جنوبی افریقہ، ماریشس اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں مختلف ناموں کی جعلی یا فرضی کمپنیوں کے نام پر منتقل کیا جا رہا ہے جس کے باعث یہ ممالک غیر قانونی ذرائع سے بنائے گئے کالے دھن اور منی لانڈرنگ کے بڑے مراکز بنتے جا رہے ہیں۔

یہ انکشاف ہرگز نیا نہیں کہ پاکستان جیسے غریب ملک کی امیر اشرافیہ اپنے ملک کا سرمایہ پاکستان سے لوٹ کر دیگر ممالک میں سرمایہ کاری یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے ایک سابق وزیر خارجہ میشلائن کالمے رے آن دی ریکارڈ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ سوئزرلینڈ کے بینکوں میں چند پاکستانیوں کی 200 ارب ڈالرز سے بھی زائد کی رقم موجود ہے۔

سوئس بینک کے ایک ڈائریکٹر کے مطابق چند پاکستانیوں کے 97 ارب ڈالرز تو صرف ان کے بینک میں پڑے ہیں۔ غریب ممالک کی اشرافیہ کی جانب سے اپنے ممالک کی لوٹ مار سے حاصل ہونے والی دولت کے لیے سوئزرلینڈ کو ایک جنت کا درجہ حاصل رہا ہے جہاں ٹیکس یا دولت کے حصول کے ذرائع کے حوالے سے کوئی پوچھ گچھ نہیں رہی۔

2009ء کے بعد سے امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے سویٹزرلینڈ کے بینکوں پر یہ دباؤ رہا کہ وہ عالمی ٹیکس انتظامیہ کو خفیہ اکاؤنٹس تک رسائی کے حصول میں مدد فراہم کریں۔ حتیٰ کہ امریکہ نے سوئٹزرلینڈ کو یہ دھمکی بھی دی کہ اگر سوئس بینکنگ قوانین میں ترامیم نہ کی گئیں تو امریکہ اپنے ہاں قائم سوئس بینکوں کے لائسنس منسوخ کر دے گا۔

مزید پڑھیں۔  چند لمحوں کے اندر دنیا میں کہیں 'پہنچنا' اب ممکن

یوں سوئٹزرلینڈ نے دباؤ میں آکر اپنے بینکنگ سیکٹر کے قوانین میں کسی حد تک ترامیم کیں۔ جس کے مطابق اب سوئس حکومت کو ایسی رقوم یا اثاثوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اجازت ہوگی جن کوغیر قانونی ذرائع سے حاصل کرکے سوئس بینکوں میں ڈیپازٹ کروایا گیا ہے۔

اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ اب اگر پاکستان کی حکومت چاہے تو سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پاکستان سے لوٹی گئی دولت اور اثاثوں کے بارے میں نہ صرف معلومات حاصل کرسکتی ہے بلکہ یہ ثابت کرکے کہ یہ رقم غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی ہے اس رقم کو واپس لانے کے لیے قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتی ہے۔

پاکستان میں جہاں ایک طرف کرپشن یا ناجائز ذرائع سے بنائی گئی دولت پر کسی قسم کی گرفت نہ کرنے کی ذمہ دار ریاست ہے تو وہیں دوسری طرف ہم اپنے سماجی رویوں پر بھی تنقید کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اب ہمارا سماجی رویہ بن چکا ہے کہ اگر کسی بھی شعبے کا کوئی فرد اپنی جائز آمدنی کی حد سے زیادہ شاہانہ طرز زندگی اپناتا ہے یا دیگر غیر قانونی ذرائع کے ذریعے ہی ایسا طرز زندگی اپنائے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود اس رویے کی مذمت کرنے کی بجائے لوگوں کی اکثریت ایسے شخص سے مرعوب ہونے لگتی ہے۔ایک ایسے معاشرے میں جہاں اکثریت دو وقت کی روٹی کے حصول میں ہی اپنی ہر صبح کو شام کرنے میں لگی ہو، جہاں غریبوں کے بچوں کے لئے تعلیم اور روزگار تو دور کی بات، سر ڈھاپنے کے لئے چھت اوراپنی بیماریوں سے لڑنے کے لئے صحت کے بنیادی وسائل بھی موجود نہ ہوں۔ ایسے میں وسائل کو یوں اپنی عیاشیوں کے لئے لوٹنا اور پھر اس لوٹی ہوئی دولت سے دنیا کے امیر ممالک میں اپنے اثاثے بنانا ناقابل معافی جرم ہے۔ وسائل کی اس اندھی لوٹ کھسوٹ کا ہی نتیجہ ہے کہ پاکستان 28 ہزار ارب روپے سے بھی زائد کا مقروض ہوچکا ہے، مگر بے حسی کی حد تو یہ ہے کہ وسائل کی لوٹ مار کم ہونے کی بجائے اس لوٹ مار میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔ اگر عمران خان پاکستان سے لوٹی ہوئی رقم کا مکمل نہ سہی، اکثر حصہ ہی واپس لانے میں کامیاب ہوگئے تواس کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں