سپریم کورٹ نے موبائل فون بیلنس پر وصول کیے جانے والا اضافی ٹیکس معطل کر دیا

چیف جسٹس
loading...

آج کل تو ریڑھی والا بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آگیا؟ چیف جسٹس

گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں موبائل فون پر اضافی ٹیکسز کے از خود نوٹس کی سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ہوئی۔ چیئرمین ایف بی آر عدالت میں پیش ہوئے۔ فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ ٹیکس کے نام پر ریڑھی بان سے کیسے ٹیکس وصول کیا جاسکتا ہے؟

چیئرمین ایف آر نے جواب دیا کہ موبائل کالز پر سروسز چارجز کی کٹوتی کمپنیز کا ذاتی عمل ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ جو شحض ٹیکس نیٹ میں نہیں آتا اس سے ٹیکس کیسے وصول کیا جاسکتا ہے؟ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ موبائل کارڈز پر موبائل کمپنیز اور ایف بی آر ٹیکس وصول کرتی ہیں، 100روپے کا کارڈ لوڈ کرنے پر 64.38 پیسے وصول ہوتے ہیں یہ غیر قانونی ہے۔آج کل تو ریڑھی والا بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے وہ ٹیکس نیٹ میں کیسے آگیا؟ ۔ چیئرمین ایف بی آر نے جواب دیا کہ 130ملین افراد موبائل استعمال کرتے ہیں، ملک بھر میں ٹیکس دینے والے افراد کی مجموعی تعداد 5فیصد ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ5فیصد لوگوں سے ٹیکس لینے کے لیے 130ملین پر موبائل ٹیکس کیسے لاگو ہوسکتا ہے؟ ایک بندہ اگر ٹیکسی ورک میں نہیں آتا تو اس سے کیسے ٹیکس وصول کرسکتے ہیں؟ ٹیکس دہندہ اور نادہندہ کے درمیان فرق واضح نہ کرنا امتیازی سلوک ہے، آئین کے تحت امتیازی پالیسی کو کالعدم قرار دیا جاسکتا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس کا موبائل فون کا استعمال مقررہ حد سے زیادہ ہے اس سے ٹیکس وصول کریں، موبائل فونز کارڈر پر ٹیکس وصولی کے لئے جامع پالیسی بنائی جائے ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس نے موبائل کمپنیز اور ایف بی آر کی جانب سے موبائل کارڈز پر وصول کیے جانیوالے ٹیکسز معطل کردئیے۔ عدالت نے ٹیکسوں کو معطل کرنے کے احکامات پر عمل کرنے کے لیے دو دن کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

مزید پڑھیں۔  ٹائپ ون ذیابیطس مریضوں کے لیے کھائی جانے والی گولی تیار

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں