سابق خاتونِ اول بیگم کلثوم نواز کی زندگی پر ایک نظر

کلثوم نواز

میاں محمد نواز شریف کی اہلیہ اور تین مرتبہ پاکستان کی خاتون اول رہنے والے کلثوم نواز 1950ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کا تعلق کشمیری گھرانے سے تھا اور گاما پہلوان کی پوتی تھیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مدرسہ البنات سے حاصل کی اس کے بعد لیڈی گریفن اسکول سے میٹرک کیا۔ ایف ایس سی اسلامیہ کالج جب کہ بی ایس سی ایف سی کالج لاہور سے کی۔

آپ نے ایم اے پنجاب یو نیورسٹی سے کیا اور اسی دوران سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کی منگنی ہوگئی۔

بیگم کلثوم نواز کے بھائی عبدالطیف کی شادی بھی شریف خاندان میں ہوئی اور یہی رشتہ داری اپریل 1971ء میں نواز شریف سے ان کی شادی کا سبب بنی۔

کلثوم نواز کو عملی سیاست سے دلچسپی نہیں تھی اور وہ خاتون خانہ ہونے کو ترجیح دیتی رہیں۔

جنرل پرویز مشرف کے مارشل لاء کے بعد جب نواز شریف کو جیل جانا پڑا تو ان کی رہائی کی مہم چلانے کے لیے کلثوم نواز سیاسی میدان میں سرگرم ہوئیں۔

22 جون 2000ء میں انہیں مسلم لیگ ن کی قائم مقام صدر بنا دیا گیا اور وہ دو سال تک پارٹی کی صدارت کرتی رہیں۔ نواز شریف کی گرفتاری کے خلاف انہوں نے کاروان تحفظ پاکستان ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا، جس کی بناء پر انہیں 8 جولائی 2000ء کو نظر بند کر دیا گیا۔

مگر بیگم کلثوم نواز چند لیگی کارکنوں کے ہمراہ جیل روڈ انڈر پاس پہنچ گئیں جہاں سے پولیس ان کی گاڑی کو کرین کے ذریعے جی او آر لے گئی اور وہاں انہیں گرفتار کیا گیا۔

مزید پڑھیں۔  سنی لیون کو کس بات کا ڈرہے؟

مسلم لیگ نے نواز شریف کی نااہلی کے بعد بیگم کلثوم نواز کو ان کی خالی نشست این اے 120 سے ضمنی انتخاب لڑانے کا فیصلہ کیا لیکن انتخابات سے قبل ہی جون 2017ء میں بیماری کے باعث لندن منتقل کر دیا گیا اور وہ ان کی انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی اور وہ کامیاب بھی ہوئیں۔

لندن میں ڈاکٹرز نے 22 اگست 2017ء کو انہیں کیسنر کی تشخصی کی جس کے بعد ان کی متعدد سرجریز اور کیموتھراپیز ہوئیں۔ اس دوران کئی مرتبہ ان کی طبیعت سنبھل کر پھر خراب ہوئی۔

کلثوم نواز کو گزشتہ روز ایک مرتبہ پھر طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ دوران علاج ہی انتقال کر گئیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں