ہر اثر اور سفارش نیب کے گیٹ سے باہر ختم ہو جاتا ہے، چیئرمین نیب

چیئرمین نیب، جسٹس جاوید اقبال
loading...

اسلام آباد میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ نیب میں آج تک کسی کی عزت نفس کی تذلیل نہیں کی گئی۔ جن کے پاس موٹر سائیکل تھیں ان کے دبئی میں جو ٹاور کھڑے ہیں اس کے بارے میں پوچھ لیا تو کیا برا کیا۔

“مجھے بتایا گیا کہ تاجر برادری میں خوف اور بے یقینی ہے۔ یقین دلاتا ہوں ہر وہ تاجر جو ضمیر کے مطابق ملکی مفاد اور معیشت کی بہتری کے لیے کام کررہا ہے کبھی ایسا نہیں ہوگا ان میں سے کسی کے لیے ہراسمنٹ کا ذہن میں تصور بھی آجائے۔”

چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ زندگی میں اپنی اننگز کامیابی سے مکمل کی۔ نیب میں صرف کرسی کے لیے نہیں بیٹھا۔ چاہتا ہوں کہ یہ آخری اننگز یادگار رہے، یقین دلاتا ہوں کرپٹ عناصر دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں نیب ان کا پیچھا کرے گا، لوگوں کی لوٹ ہوئی دولت ان تک پہنچائی جائے گی۔ یہ کوئی مہربانی نہیں میرے فرائض میں شامل ہے۔

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ مجھے خریدنے کی باتیں کی گئیں میں کوئی پلازہ نہیں ایسی چیزیں ناممکنات میں سے ہیں۔ ہر اثر ہر سفارش اور بڑے آدمی کا اثر و رسوخ نیب کے گیٹ کے باہر ختم ہوجاتا ہے۔ گیٹ کے اندر صرف قانون ہے جس کے آپ سب اور میں بھی پابند ہوں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ اس وقت پاکستان نوے ارب ڈالر سے زیادہ کا مقروض ہے۔ کیا نیب کا قانون کے تحت کوئی حق نہیں کہ جن لوگوں نے یہ قرض لیا ان سے پوچھے۔ زمین پر کوئی قرض نظر نہیں آرہا۔

مزید پڑھیں۔  سی پیک کومنجمد کرنا عوام کے ساتھ زیادتی ہوگی، شہبازشریف

جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ 10 ماہ میں کسی فیس کو نہیں کیس کو دیکھا۔ طے پایا تھا کہ سب کا احتساب ہوگا جو کرے گا وہ بھرے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ نیب کا کسی گروپ اور کسی شخص یا مفاد سے کوئی تعلق نہیں، ہر قدم اور تمام وفاداریاں صرف پاکستان اور عوام سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب کمزور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے سب کچھ کررہا ہے، وہ جو ملک کے اربوں ڈالر باہر لے کر گئے وہ واپس آسکے، حکومت اور نیب اس کے لیے پوری کوشش کررہی ہے لیکن کوئی غلط سپنا نہیں دکھاؤں گا کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، جب ہمارے ایک ہاتھ میں کشکول ہوگا تو دوسرے ملک کو کیسے مجبور کرسکتے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں