غربِ اردن ، اسرائیلی وزارت دفاع نے یہودیوں کو آباد کرنے 1100 نئے مکانوں کی منظوری

jordan house construction

اسرائیلی حکام  نے غرب اردن میں یہودیوں کو آبا د کرنے کے لیے 1100 نے مکانات تعمیر کرنے کی منظوری دے دی۔

اسرائیلی حکام  نے غرب اردن میں یہودیوں کو آبا د کرنے کے لیے 1100 نے مکانات تعمیر کرنے کی منظوری دے دی۔  352 مکانوں کی تعمیر کی منظوری حتمی ہے تاہم باقی مکانات دفتری کاروائی مکمل ہونے کے بعد تعمیر کیے جائیں۔
آج کل  نیوز، اسرائیل غرب اردن میں یہود ی آباد کاروں کے لیے مزید گیارہ سو سے زیادہ نئے مکانوں کی منظوری دے دی ۔تاہم  فلسطینی اتھارٹی نے نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری کی مذمت کی ہے۔  اور  یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے بند کردے۔میڈیارپورٹس کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کی مخالف اسرائیل کی غیر سرکاری تنظیم اب امن نے اطلاع دی کہ اسرائیلی وزارت دفاع کی ایک کمیٹی نے ان مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ان میں سے 352 مکانوں کی تعمیر کی حتمی منظوری دی گئی ہے اور باقی دفتری کارروائی کے مختلف مراحل میں ہیں۔اب امن کے مطابق کل 1122 مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ان میں سے سات پہلے ہی موجود ہیں اور انھیں قانونی بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔یہ مکانات غربِ اردن کے اندرون میں موجود یہودی بستیوں میں تعمیر کیے جائیں گے ۔مشرق وسطیٰ تنازع کے دو ریاستی حل کی صورت میں اسرائیل کو ان علاقوں کو خالی کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں۔  سول ایوی ایشن نے بلاول بھٹو کے جہاز کو لاہور ایئرپورٹ سے ٹیک آف کرنے سے روک دیا

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967کی مشرق وسطیٰ جنگ میں غربِ اردن ، مشرقی یروشیلم اور گولان کی چوٹیوں سمیت جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا،وہ اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا حصہ نہیں ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں