نا بینا افراد مطالبات منوانے کیلئے دوبارہ سڑکوں پر نکل آئے،پریس کلب کے بعد میٹروک ٹریک پر دھرنا

lahore-aajkal.google.jpg
loading...

لاہورنا بینا افراد اپنے مطالبات منوانے کیلئے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئے ،وعدے پورے نہ ہونے سے دلبرداشتہ ہو کر کچھ ساتھی اپنے ساتھ پیٹرول کی بوتلیں بھی لائے ہیں ‘میٹرو بس سروس جزوی معطل

لاہور: نا بینا افراد اپنے مطالبات منوانے کیلئے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکل آئے ، پریس کلب کے باہر دھرنا دینے کے بعد کلمہ چوک میٹروبس کے ٹریک پر دھرنا دیدیا ،پریس کلب کے باہر دھرنے کے باعث شملہ پہاڑی چوک کے اطراف میں شاہراہوں پر ٹریفک شدید دباؤ کا شکار رہی ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف شہروں سے آنے والے نا بینا افراد نے ہفتہ کی صبح پریس کلب کے باہر دھرنا دے کر ٹریفک کو روک دیا جس کی وجہ سے ڈیوس روڈ اور شملہ پہاڑی چوک کے اطراف میں ٹریفک شدید دباؤ کا شکار رہی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نا بینا افراد کے رہنماؤں کا کہنا تھاکہ ہم اپنے مطالبات منوانے کے لئے 2014سے سڑکوں پر ہیں لیکن ہمیں تشدد کے سوا کچھ نہیں ملا

محکمہ سوشل ویلفیئر ایک مطالبہ تسلیم کر تا ہے تو باقی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے ۔ ہمارا مطالبہ ہے کنٹریکٹ پر رکھے گئے تمام معذور افراد کو مستقل کیا جائے ،کوٹہ معذوری کے تناسب سے مختص کیا جائے اور ہمیں مزید نوکریاں دی جائیں۔ عہدیداروں نے انکشاف کیا کہ ہمارے شادی شدہ دوست اتنے دلبرداشتہ ہیں کہ وہ اپنے ساتھ پیٹرول کی بوتلیں بھی لائے ہیں لیکن ہم نے انہیں سمجھایا ہے۔ پریس کلب کے باہر دھرنا دینے کے بعد نا بینا افراد وہاں سے اٹھ کر کلمہ چوک پہنچ گئے اور میٹروٹریک پر دھرنا دیدیا جس سے میٹرو بس سروس جزوی طور پر معطل ہو گئی ۔

مزید پڑھیں۔  سپریم کورٹ نے اسحاق ڈار کی سینیٹر شپ عبوری طور پرمعطل کردی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں