تمھارے حکمران تمھارے اعمال کا نتیجہ ہیں۔

getty images

columnist_naveed_nasim-aajkal_googleنوید نسیم

ڈیویلپنٹ کے وعدے، من گھڑت دعوے، غلط بیانیاں، دہشتگردی انتہا پسندی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، کرپٹ حکمرانوں کا احتساب اور سب سے بڑھ کر “عوام کی خدمت”۔۔۔

 یہ گھسے پٹے بلند و بانگ انتخابی نعرے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے۔ جن کے رہنما ہر پانچ سال بعد عوام کو بیوقوف بنانے پہنچ جاتے ہیں۔ روزانہ رات نیوز چینلز پر دکھائی دینے والے بزرگوں سے جُھک کر ملتے، برآمدوں میں چارپائیوں پر چوکڑیاں مار کر بیٹھے اور تپتی گرمی میں جسم سے چپٹے سفید سلوار قمیض میں شرابور دکھائی دیتے ہیں۔

 مفاد پرست رہنماؤں کو سر آنکھوں پر بٹھائے آگے پیچھے چلتی عوام مجال ہے۔ جو کبھی کسی نے پانچ سالوں بعد آنے والے حکمران کو اُس کی اوقات یاد دلائی ہو۔ کبھی پوچھنے کا حوصلہ کیا ہو کہ میاں صاحب، آپ تو پانچ سال پہلے بھی وعدوں کا ٹوکرا اُٹھائے تھے۔ لیکن پھر ایسے غائب ہوئے۔ جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

بد قسمتی کہیں یا جمہوریت پسندوں کی خوش قسمتی۔۔۔ اگلے انتخابات پھر سے ہونے کو ہیں۔ جن سے متعلق میرا ایک معصومانہ سوال ہے۔

ایسی امیدواروں کو ووٹ کیوں دیں۔ جس کے خود غرض لیڈران ہر 5 سال بعد ووٹ مانگنے اور ووٹرز سے جھوٹے وعدے کرنے پہنچ جاتے ہیں؟۔

ان لیڈروں کو ووٹ مانگتے وقت تو شرم آتی نہیں۔ کیا ہمیں بھی انہی کو ووٹ ڈالتے وقت شرم نہیں آتی؟۔ وہ تو بے شرم ہوتے ہی ہیں، کیا ہماری عوام بھی شرم و حیا گنوا چکی ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک مسلمان ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسہ جاتا۔ پتہ نہیں ہم کیسے مسلمان ہیں کہ ایک ہی طرح لیڈروں کے ہاتھوں دہائیوں سے بیوقوف بنی جارہے ہیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ ووٹ ڈالنا ہر ذمہ دار اور باشعور شہری کا فرض ہے۔ (جو کہ پاکستان کی اکثریتی ووٹرز نہیں)۔ پھر کیا یہ ذمہ داری صرف عوام کی ہی ہے کہ وہ جمہوریت کے علمبردار ہوتے ہوئے ووٹ ڈالیں۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری صرف عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر عوام کو لوٹنا ہے؟۔ کیا سیاستدان حکومت کرنے کیلئے اور عوام ہمیشہ ووٹ ڈالنے کیلئے پیدا ہوئے ہیں؟۔

درحقیقت پاکستان میں لیڈروں، رہنماؤں، وزیروں اور مشیروں نے عوام کو ہر پانچ سالوں بعد ووٹ ڈالنے کے لئے پال رکھا ہے اور عوام ایسی بیوقوف اور بد قسمت ہے کہ ہر پانچ سالوں بعد پرانا لالی پاپ نئی پیکنگ میں لے کر ووٹ ڈال دیتی ہے۔ جس کے کچھ دیر بعد ہی نئی سنہری پیکنگ میں لپٹی لالی پاپ کڑوے اور بد مزے پن کا احساس دلانے لگتی ہے۔ لیکن تب تک عوام کے اپنے منتخب شدہ نمائندے عوام کے ساتھ ہاتھ کر چکے ہوتے ہیں۔

میرا ووٹ ڈالنے والے ہر ووٹر سے دوسرا معصومانہ سوال ہے کہ “وہ ووٹ کیوں ڈالتے ہیں؟”۔

مزید پڑھیں۔  پاکستان کی مثال اس گرے ہوئے مکان کی طرح ہے

کوئی بھی سیاسی جماعت اقتدار میں آنے سے پہلے جو وعدے کرتی ہے، کیا کبھی کسی نے پورے کئے ہیں؟۔

کیا ووٹ ڈالتے وقت کبھی آپ نے سوچا ہے کہ نواز لیگ نے تو لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تحریک انصاف نے تو وعدہ کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کو بدل کر رکھ دیں گے۔ شہید بھٹوؤں کے نام پر دہائیوں سے سندھ میں برسر اقتدا پیپلز پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ معاشی ترقی اور انفرا سٹرکچر کو تبدیل کر دیں گے۔

70 سالوں میں کئے گئے یہ وعدے اگر آدھے بھی پورے ہوئے ہوتے۔ تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے۔

اگر اس سوال کا جواب میں خود دوں تو میں ووٹ اس لئے ڈالتا ہوں کہ مجھے کامل یقین ہے کہ تبدیلی ووٹ کے ذریعے ہی آسکتی ہے۔ اب ووٹ کس کو دینا ہے۔ میں تو کم از کم ووٹ ڈالتے وقت یہ ضرور دیکھوں گا کہ 2013 کے انتخابات میں میں نے جس کو ووٹ دیا تھا۔ اس کی کارکردگی پانچ سالوں میں کیسی تھی؟۔ کیا جو وعدے اس نے کئے تھے۔ وہ پورے کئے یا پھر پانچ سالوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود شہباز شریف چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کیلئے کہہ رہے ہیں کہ اگر اب نواز لیگ حکومت میں آئی تو کراچی میں میٹرو بس چلائیں گے۔ کوئی شہباز شریف سے پوچھے کہ پچھلے پانچ سالوں میں حکمران نریندر مودی تھا؟۔

کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں آج بھی لوگ ووٹ ذات برادری، کوٹ کچہری، تھانے کے معاملات اور ذاتی مفادات کو سامنے رکھ کر دیتے ہیں۔

کوئی ووٹ ایک خاص جماعت کے امیدوار کو اس لئے دیتا ہے کہ اس امیدوار نے اس کے بیٹے کو سرکاری نوکری دلوائی ہوتی ہے۔ کوئی ووٹر اپنے ہم ذات سے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لئے ووٹ دیتا ہے۔ کوئی تھانوں میں درج پرچوں سے جان چھڑوانے کی وجہ سے اور کوئی نمبردار، تحصیل دار یا کوٹ کچہری کی مصیبتوں سے چھٹکارا پانے کی وجہ سے ووٹ دیتا ہے  اور کوئی اپنے سیاسی و روحانی گدی سے تعلق رکھنے والے کو۔

پاکستان کے موجودہ حالات کی وجوہات چند نام نہاد لبرل تجزیہ کاروں کے نزدیک مندرجہ بالا ہیں۔ جن کا ماننا ہے کہ جب تک عوام اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ووٹ دیتے رہیں گے۔ ملک کی تقدیر بدلنے والی نہیں۔

میرا ان تجزیہ کاروں سے بھی یہ سوال ہے کہ بیچارے ووٹرز اگر اپنے ذاتی مفادات اور نفع نقصان کی خاطر بھی ووٹ نا دیں تو کس کی خاطر دیں؟۔

جماعت کوئی بھی اقتدار میں آئے۔ کرنی اس نے اپنی ہی ہے۔ ایسے میں عام ووٹر کیوں اپنے ذاتی مفادات کی قربانی دیں۔ ویسے بھی اب انتخابات پانچ سالوں بعد ہوتے ہیں۔ اب کون پانچ سالوں بعد آنے والے موقع کو گنوائے اور سرکاری نوکری لینے یا تھانے کچہری سے فیصلے کروانے کے لئے اگلے پانچ سالوں کا انتظار کرے۔ ملک کی حالت تو بدلنے والی ہے نہیں۔ پھر اپنے ذاتی مفادات بھی پورے نا کروائے۔ تو فائدہ؟۔

مزید پڑھیں۔  سادگی و کفایت کے چکر میں مت پڑیں

اللہ اللہ کرکے نواز حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے کو ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں جتنی بھی سیاسی جماعتیں حصّہ لیں گی۔ انھیں ہم وفاق میں یا صوبوں میں (مکمل یا الائنس میں) آزما چکے ہیں اور ان کی کارکردگی یہ ہے کہ بیرونی قرضے بڑھ چکے ہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ شروع ہوچکی ہے۔ درآمدات کم اور برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ افراطِ زر میں اضافہ ہوشربا ہے۔ صرف امن و امان کی صورتحال ہی بہتر ہوئی ہے۔ جس کا کریڈٹ فوج لیتی ہے۔ پھر ووٹ ان سیاسی جماعتوں کو دینے کا فائدہ؟۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ تبدیلی ووٹ کے ذریعے ہی آسکتی ہے۔ لیکن اس کے لئے بھی لازم ہے کہ ووٹرز میں تبدیلی آئے۔ تبدیلی تب آئیگی جب ہر ووٹر ووٹ ڈالنے سے پہلے سوچے کہ وہ کسی خاص جماعت کو ووٹ کیوں ڈال رہا ہے؟۔ کیا وہ اپنے ذاتی مقاصد یا مفادات کی خاطر کسی خاص نمائندے یا جماعت کو ووٹ تو نہیں دے رہا؟۔ ووٹرز ووٹ ڈالتے وقت یہ تہیہ کریں کہ وہ آزمائے ہوئے سیاستدانوں کو ووٹ دینے کی بجائے اس بار ووٹ ذاتی پسند نا پسند پر نہیں، بلکہ ملکی مفاد اور مستقبل کی خاطر ووٹ دیں گے۔ کیونکہ موجودہ حکمرانوں (وفاق میں یا صوبوں میں) سے امید وابستہ رکھنے سے تو بہتر ہے کہ آپ کشمیر کی آزادی کی امید لگا لیں۔

پاکستان میں حقیقی تبدیلی کے لئے لازم ہے حکمرانوں سے امیدیں لگانے کی بجائے عوام اپنے آپ کو بدلیں۔ ذات، برادری اور اثرورسوخ کے ہاتھوں دہائیوں سےیرغمال انتخابی عمل کو بدلیں۔ بریانی کی پلیٹ اور قیمے والے نان کی خاطر ووٹ دینے والی سوچ کو بدلیں۔ میرٹ کی بجائے سفارش کے ذریعے نوکریاں حاصل کرنے کی عادت کو بدلیں۔ پولیس اور کوٹ کچہری سے رعائت حاصل کرنے کی بجائے غیر قانونی ہتھکنڈوں سے اجتناب کریں۔

اگر یہ سب کچھ نہیں کرسکتے تو رمضان کے مہینے میں سال کے سال مسلمان ہوتے ہوئے ہی اس حدیث مبارکہ پر ہی عمل کرلیں کہ “تمھارے حکمران تمھارے اعمال کا نتیجہ ہیں”۔ لہزا عوام اس حدیث پر بھروسہ یقین کریں اور حکمرانوں کو گالیاں اور برا بھلا کہنے کی بجائے عوام اپنے اعمال ٹھیک کریں۔ کیونکہ حکمران تو بدلنے والے ہیں نہیں۔ عوام ہی اپنے آپ کو بدل لیں۔ مجھے تو مکمل یقین ہے کہ حکمران پھر خود ہی ٹھیک ہوجائیں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں