May 18, 2021

آج کل

Daily Aajkal News site

شہزاد اکبر

منی لانڈرنگ کیس

جے آئی ٹی رپورٹ نے زرداری سسٹم کو عیاں کر دیا: شہزاد اکبر

وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ نے سندھ میں زرداری سسٹم کو عیاں کر دیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ میں 800 سے 900 صفحات پر مبنی رپورٹ جمع کرائی۔

انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے 924 افراد کے بیان قلمبند کیے جس میں 100 سے زائد جعلی اکاؤنٹس سامنے آئے، 59 مشکوک بینک اکاؤنٹس میں ٹرانزکشنز دیکھی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی تحقیقات کو داد دینی چاہیے، ہم خود حیران اور پریشان ہیں کہ ہوا کیا ہے، اب پتا چلا ہے کہ ہم گرے لسٹ میں کیوں ہیں؟

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کیس کو امریکا کی سینیٹ کمیٹی نے ٹیسٹ کیس بنایا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ جے آئی ٹی میں سندھ کے سسٹم کو بے نقاب کر دیا گیا ہے، سندھ کے ٹھیکوں کو لینے کے لیے نہ صرف جعلی اکاونٹس بنائے گئے بلکہ جعلی بینک بنا دیا گیا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ 9 ارب روپے جعلی اکاؤنٹس سے جعلی بینک میں گئے۔

جعلی اکاؤنٹس کیس: جے آئی ٹی نے زرداری اور اومنی گروپ کو ذمہ دار قرار دے دیا

انہوں نے بتایا کہ 2015 سے 2017 تک جعلی بینک اکاونٹس کیس میں کچھ نہیں ہوا، دسمبر 2017 میں جعلی ٹرانزکشن کو ایف آئی اے نے دیکھنا شروع کیا۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ہم حساب کر رہے تھے تو کیلکولیٹر جواب دے گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلاول ہاؤس کے اطراف 10 گھر خریدے گئے، اس کے علاوہ نوابشاہ اور نوڈیرو میں زرعی اراضی خریدی گئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ٹھیکوں میں کمیشن وصول کرنے کے لیے بینک بنایا گیا، اومنی گروپ کے 32 اکاؤنٹس ان 100 جعلی اکاؤنٹس سے لنک تھے، مختلف شعبوں میں سبسڈی ان جعلی اکاؤنٹس میں دی گئی۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ اومنی گروپ کے خریدنے کے بعد سندھ حکومت اس انڈسٹری کے لیے اسکیم نکالتی تھی۔

اومنی گروپ نے جعلی کمپنی کے نام پر نیشنل بینک اور سندھ بینک سے قرضے لیے، اومنی گروپ کو 54 ارب روپے کا قرضہ دیا گیا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں ایک شخص مشتاق کا ذکر ہے جو ایان علی کو ایئرپورٹ لاتا لے جاتا تھا، جب آصف زرداری صدر بنے تو مشتاق کو گریڈ 12 کا اسٹینو تعینات کر دیا گیا، جب مشتاق سے متعلق پوچھا گیا تو کہا گیا کہ وہ آصف زرداری کا مالشی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ان تمام معاملات میں براہ راست وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ملوث ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 2000 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ کا 30 سے 35 فیصد بجٹ زرداری صاحب کھا گئے۔