سپریم کورٹ کی اسحاق ڈار کی فوری واپسی کیلئے اقدامات کی ہدایت

اسحاق ڈار
loading...

اگر کسی اتھارٹی نے معاونت نہ کی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی ،چیف جسٹس کے ریمارکس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے لیے سیکرٹری داخلہ کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ جمعرات کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری داخلہ سے استفسار کیا کہ کیا اسحاق ڈار تشریف لائے ہیں جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ موجود نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ بتائیں اسحاق ڈار کو کیسے واپس لایا جائے اور اگر کوئی عدالت کے بلاوے پر نہ آئے تو کیا کرنا پڑیگا جس پر سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ کئی طریقوں سے پاسپورٹ منسوخ ہوسکتا ہے جب کہ شو کاز نوٹس دے کر پاسپورٹ کینسل کیا جاتا ہے۔سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ پرویز مشرف کیس میں پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ ہو چکے ہیں۔

جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اگر پاسپورٹ منسوخ کردیا گیا تو یہ بہانہ بھی ہوگا کہ اب کیسے آیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا اسحاق ڈار کی واپسی کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جاسکتا ہے، کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے کہ لوگوں کو واپس لایا جائے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ تین ماہ پہلے اسحاق ڈار کو نیب عدالت نے اشتہاری قرار دیا ٗحکومت نے کچھ کیا، اْس وقت کے وزیر اعظم نے اشتہاری سے ملاقات کی، کیا یہ ہے قانون کی بالادستی۔

مزید پڑھیں۔  پشاور: قاتلانہ حملے میں اے این پی رہنما بھتیجے سمیت جاں بحق

سپریم کورٹ نے سیکرٹری داخلہ کو اسحاق ڈار کی واپسی کے لیے فوری اقدامات کرنے اور تمام اتھارٹیز کو سیکریٹری داخلہ کی معاونت کی ہدایت کی جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی اتھارٹی نے معاونت نہ کی تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں