میں کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف ذاتی بات نہیں کرتا، چودھری شجاعت حسین

چودھری شجاعت حسین

لاہور : پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اس میں بہت بڑا ہاتھ اور کریڈٹ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کا ہے ورنہ نوازشریف ایسے ڈکٹیٹر بن کر چھا جاتے کہ ہم تمام ڈکٹیٹروں کو بھول جاتے۔

وہ کھاریاں میں سابق ایم این اے رحمن نصیر مرالہ کی رہائش گاہ پر پی ٹی آئی کے تمام متفقہ امیدواروں کے اعزاز میں دعوت سے خطاب کر رہے تھے۔ سابق صوبائی وزیر میاں عمران مسعود اور سابق نگران وزیراعلیٰ میاں افضل حیات بھی ان کے ہمراہ تھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں صرف ایشوز کی بات کرتا ہوں جہاں پاکستان کی سالمیت اور قومی یکجہتی ضروری ہو ایسے معاملات پر بولتا ہوں، میں نے کبھی کسی سیاسی رہنما کے خلاف ذاتی بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے اندر ایک بہت بڑا اختیار یہ ہے کہ کوئی پارٹی یا شخص ملکی سالمیت کے خلاف کام کرے تو اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے نوازشریف نے جنرل فیض کا نام لیا اور تنقید کا نشانہ بنایا تو یاد رہے کہ سپاہی سے لے کر جنرل تک تمام لوگ افواج پاکستان کے ملازم ہوتے ہیں جو اپنے عہدے سے پہچانے جاتے ہیں نام سے نہیں، اگر وہ یہ دیکھیں کہ کوئی شخص یا پارٹی یا ملکی سالمیت کے خلاف سازش کرنے والے ملکی و غیر ملکی عناصر سرگرم عمل ہیں تو فوج کو آئینی اختیار ہے کہ ایسے شخص کے خلاف ایکشن لے۔

مزید پڑھیں۔  ایشیا کپ: پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹاکرا آج ہو گا

سیاسی اکٹھ میں گجرات کے پی ٹی آئی کے تمام متفقہ امیدوار موجود تھے جن میں میاں اختر حیات صوبائی اسمبلی کے امیدوار، چودھری لیاقت بھدر امیدوار صوبائی اسمبلی، چودھری الیاس امیدوار قومی اسمبلی جو چودھری ظہورالٰہی شہید کے دیرینہ ساتھی چودھری گل نواز مرحوم کے صاحبزادے ہیں، فیض الحسن شاہ جو چودھری شجاعت حسین کے قریبی ساتھی منظور حسین شاہ کے بھائی ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے ان تمام امیدواروں سے الیکشن کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں