قبائلی علاقوں میں تعلیم و صحت اور فوری انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم

قبائلی علاقوں میں تعلیم، صحت اور فوری وسستے انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے.وزیراعظم
loading...

قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے ہرممکن اقدامات کیے جائیں، وزیراعظم
وزیراعظم عمران خان نے قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا (کے پی) میں انضمام کے عمل میں تیزی لانے سمیت ڈیولپمنٹ اور دیگر تعمیراتی کاموں کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جہاں فاٹا کی کے پی میں انضمام کے حوالے سے بحث کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں قبائلی علاقوں میں تعمیراتی پیکیج کے عمل میں تیزی لائی جائے’۔

انہوں نے زور دیا کہ علاقے میں تعلیم اور صحت کے معیار کو بہتر کیا جائے اور عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جائے۔

وزیراعظم نے اجلاس میں ہدایات دیں کہ قبائلی علاقوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کا نفاذ اور علاقے میں ڈیولمپنٹ کے کاموں کا آغاز عوام کے ساتھ کیے گئے فیصلوں اور تجاویز کی روشنی میں فوری طور پر شروع کیا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ ‘قبائلی علاقوں کے عوام کے لیے اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں مخصوص کوٹے میں کسی صورت کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے’۔

وزیراعظم نے کہا کہ علاقے میں نئے نظام کے نفاذ کے دوران قبائلی عوام سے مشاورت کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘قبائلی عوام کے اقدار اور روایات’ کو نئی نظام کے نفاذ کے دوران خاص توجہ دی جائے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل ہی رپورٹس آئی تھیں کہ فاٹا کے نام سے معروف قبائلی علاقے میں فاٹا ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کے تحت مختلف تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب سیکڑوں طالب علموں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔

مزید پڑھیں۔  کیا آپ جانتے ہیں کہ کینسر اور دیگر ایسی مہلک بیماریوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟؟؟

اطلاعات کے مطابق فاٹا کے خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد سے متعدد شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو گزشتہ کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے اساتذہ نوکریاں چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں، دوسری جانب طلبا کو ملنے والی اسکالر شپ کا سلسلہ بھی موقوف ہوگیا۔

اس کے ساتھ درجنوں کے قریب دیگر ایسے ملازمین جن کو پولیٹکل ایجنٹ فنڈ سے تنخواہوں کی ادائیگی کی جاتی تھی عدم ادائیگی کے سبب ملازمتیں چھوڑ چکے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں