تفتیشی افسر نے ملزم کی تذلیل کی تو اسے نہیں چھوڑ یں گے، چیف جسٹس

چیف جسٹس
loading...

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایل این جی میگا سکینڈل کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نیب کے تفتیشی افسران کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

 چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ملزم کو نیب نے سات گھنٹے بیٹھائے رکھا اور تھپڑ مارے، نیب نے ملزم کی تذلیل کرنیوالے تفتیشی کے خلا ف کیا کارروائی کی، کسی کو تھپڑ مارنے کی اجازت نہیں دیں گے، عدالت نے ایل این جی میگا سکینڈل میں نیب کو انکوائری میرٹ پرکرکے کارروائی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

  چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ایل این جی میگا سکینڈل کیس کی سماعت کی تونیب پراسیکیوٹر جنرل نے کہا ایل این جی میگا سکینڈل کیس کا 80 فیصد ریکارڈ حاصل کرلیا گیا۔

بعض چیزیں ہمارے قابو میں نہیں ہیں،بادی النظر میں اب تک اکٹھے کیئے گئے ثبوتوں میں جان ہے،چیف جسٹس نے پراسیکیوٹر جنرل نیب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ایل این جی میگا سکینڈل انکوائری کے حقائق کھلی عدالت میں نہ بتائیں۔

گزشتہ روز ایک آدمی نے بتایا کہ نیب کے تفتیشی نے اسکی بہت تذلیل کی،چیف جسٹس نے مزید ریمارکس میں کہا اگر کسی تفتیشی نے تذلیل کی تو ہم چھوڑیں گے نہیں، مجھے بتایا گیا کہ ایک ملزم کو نیب نے سات گھنٹے بیٹھا کر رکھا اور تھپڑ مارے، ملزم کی اتنی تذلیل کرنے والے تفتیشی کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔

 نیب پراسیکیوٹر نے کہا تمام تفتیشی افسران کو چیف جسٹس کی ہدایت بارے آگاہ کردیا گیا۔

مزید پڑھیں۔  48 گھنٹوں میں نئے بلدیاتی نظام کو حتمی شکل دی جائے، وزیراعظم

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں