اردو نصابات: غریب کی جورو سب کی بھابھی… ناصر عباس نیئر

اردو نصابات
loading...

پاکستانی تعلیمی اداروں میں اردو، غریب کی جورو سب کی بھابھی بنی ہوئی ہے۔ ریاستی آئیڈیالوجی، مذہب، اخلاقیات، تاریخ غرض کیا کچھ نہیں ہے جسے اردو کے نصابات میں ٹھونسا نہیں جاتا۔

اردو غریب کی جورو کی طرح سب کی ہاں میں ہاں ملاتی ہے اور وہ سب بوجھ اٹھاتی ہے جو حقیقت میں دوسرے مضامین کے ہیں۔ اردو نصابات کی اس بوالعجبی کا علم سب کو ہے مگر گزشتہ کئی دہائیوں سے اس کے چلن نے اس کی طرفگی کے نوکیلے احساس کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اسے معمول کی چیز بنا دیا ہے۔ سوائے چند تعلیمی ماہرین کے باقیوں کواس بات پر حیرت ہی نہیں ہوتی کہ اردو کی نصابی کتابوں میں نصف سے زیادہ تحریریں مذہب و تاریخ اور اخلاقیات سے متعلق ہوتی ہیں۔

کسی بوالعجبی کا معمول بن جانا ایک سانحہ ہے۔ کیوں کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ لوگ بے جوڑ چیزوں کو بغیر تنقیدی شعور کے قبول کرنے لگے ہیں اور کہیں کی اینٹ اور کہیں کے روڑے کو ایک ساتھ تصور کرنے میں انھیں کوئی حرج نہیں محسوس ہو رہا۔ تنقیدی شعور کے خاتمے کی بے خبری سے بڑا سانحہ کیا ہوسکتا ہے۔

ہر مضمون کے نصاب کا دائرہ اس مضمون تک محدود رکھا جاتا ہے تاکہ طالب علم کی توجہ کا ہدف واضح اور متعین ہو۔ مبادا غلط فہمی ہو اسی مقام پر یہ واضح کر دیا جانا چاہیے کہ مضامین (اور زیادہ مناسب لفظوں میں شعبہ علم یا ڈسپلن) کے دائروں کا حتمی تعین دشوار ہے اور تمام مضامین کی حدود آپس میں کہیں نہ کہیں ملتی ہیں مگر اس حقیقت کا احساس ان مضامین کے بارے میں اعلیٰ ترین دانش ورانہ سطح پر سوچنے کے وقت ہوتا ہے۔

کم از کم سکول اور کالج کی سطح پر سائنس، سماجی علوم، اسلامیات، تاریخ سمیت سب مضامین کے دائرے مقرر ہیں اور ایسا شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ طبیعات کے مضمون میں تاریخ پڑھائی جائے یا تاریخ کے مضمون میں کیمیا کے ابواب شامل کیے جائیں۔ گویا نصاب سازی میں یہ بات اصول کا درجہ رکھتی ہے کہ ہر مضمون کی حدود کا خیال رکھا جائے اوراس کی سختی سے پابندی کی جائے۔ لیکن اردو کواس اصول سے استثنا حاصل ہے۔

مزید پڑھیں۔  خاتون اداکارہ جیمی لیونر کے خلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج

اس استثنا کی ایک تاریخ ہے جس کا آغاز نو آبادیاتی تعلیمی نظام سے ہوتا ہے۔ جسے ریاستی آئیڈیالوجی کی تبدیلی کے سوا عام طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے۔ اس وقت پاکستان میں جو اردو نصابات پڑھائے جا رہے ہیں وہ بہ ظاہر 2009ء کی تعلیمی پالیسی کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ لیکن ان نصابات کی روح پرانی ہے۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے خاتمے پر رائج ہونے والی اس تعلیمی پالیسی میں جن تعلیمی مقاصد کا ذکر ہے وہ نئے نہیں ہیں۔ یہ مقاصد وہی ہیں جو آئین پاکستان میں درج ہیں یا جنھیں تحریک پاکستان اور قیامِ پاکستان کی سرکاری تاریخوں میں کثرت سے دہرایا جاتا ہے۔

پاکستان کی اکثریت کی ثقافتی اقدار اسلام سے اخذ کی گئی ہیں۔ چوںکہ تعلیمی نظام سماجی، ثقافتی اور اخلاقی اقدار کی عکاسی کرتا ہے اور ان کی تقویت کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے تعلیمی اقدامات، مذہب اور عقیدے کی بنیادی اقدار پر مبنی ہونی چاہیئے۔

بلاشبہ پاکستان کی آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے لیکن کیا دیگر مذاہب کے لوگ پاکستانی شہری نہیں ہیں اور اس حیثیت میں وہ تعلیمی حقوق نہیں رکھت ؟ کیا وہ اتنا حق بھی نہیں رکھتے کہ ان کی موجودگی کا ذکر اس تعلیمی پالیسی میں کیا جائے؟

علاوہ ازیں اس تعلیمی پالیسی میں اس فرق کو بھی واضح نہیں کیا گیا جس کا تعلق طالب علموں کو سماج کی اقدار کے اندھے مقلد بنانے اور ان اقدار کی اہمیت کو سمجھ کر قبول کرنے میں ہے۔ تعلیمی پالیسی میں جن مقاصد کا ذکر ہے اردو ان کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ بنی ہے۔

مزید پڑھیں۔  پاکستان اور سعودی عرب تاریخ، مذہب اور ثقافت کے انتہائی گہرے رشتوں میں بندھے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی، صدرممنون حسین

پاکستان کے تعلیمی ڈسکورس (جو پاکستان کے سرکاری قومی بیانیے کا عکس ہے) کی رو سے دیکھیں تو اردو ایک زبان، ایک ذریعہ ابلاغ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ قومی، مذہبی اقدار کی حامل اور محافظ ہے۔ جس طرح اسلام سے متعلق یقین کیا جاتا ہے کہ وہ تمام پاکستانیوں کو یکجا رکھ سکتا ہے۔ اسی طرح اردو کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سب پاکستانیوں کو اکٹھا رکھ سکتی ہے۔

ایک مذہب، ایک زبان، ایک قوم کے بیانیے میں زبان کا مرتبہ مذہب اور قوم سے کم تر نہیں سمجھا گیا اور زبان کے قومی کردار سے اختلاف کرنے والوں کو کم وبیش اسی توہین کا مرتکب سمجھا جاتا ہے جو مذہب اور قوم کے ریاستی حاوی بیانیے سے اختلاف کرنے والوں کے لیے تصور کی گئی ہے۔

اردو زبان کی یہ ایک ایسی مقدس خصوصیت ہے جس سے باقی اکہتر پاکستانی زبانیں محروم تصور کی گئی ہیں۔ یوں اردو کو خود بخود باقی زبانوں پر اقتدرای حیثیت حاصل ہوجاتی ہے اور جو لوگ اس کا علم اٹھا کر چلتے ہیں انھیں طاقت کے کھیل میں خود بخود حصہ مل جاتا ہے۔

انیسویں صدی میں یو پی اور بیسویں صدی میں پنجاب کے مسلمانوں نے خاص طور پر اردو کو اپنی مذہبی شناخت کے طور پر قبول کرنا شروع کیا۔ اس کا باعث نو آبادیاتی عہد کے برصغیر کے جدید تعلیم یافتہ دانشوروں کی مخصوص حکمت عملی تھی۔ جس کے مطابق انھوں نے اپنی آزادی کی آئینی اور عوامی جنگ استخراجی قومیت پرستی کے ذریعے لڑنا پسند کی۔ اس جنگ میں ایک قوم، ایک زبان، ایک مذہب کا بیانیہ راسخ ہوا۔

(جاری ہے)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں