حضرت عمر فاروق ؓ  کا یوم وصال

حضرت عمر فاروق

زونیرہ شبیر
حضرت عمر فاروق ؓ  خلیفہ اول حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ بنے تھے اور آپ ان دس صحابہ میں سے ایک ہیں جن کو جنت کی خوشخبری دی گئی۔

نام اور نسب

حضرت عمر فاروق ؓ  کا نام مبارک عمر ہے لقب فاروق کنیت ابو حفص تھی ۔ لقب اور کنیت دونوں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عطا کردہ ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا نسب نویں پشت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جا ملتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نویں پشت میں کعب کے دو بیٹے ہیں مرہ اور عدی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرہ کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عدی کی اولاد میں سے ہیں۔

حضرت عمر فاروق ؓ  کی ابتدائی زندگی

آپ رضی اللہ تعالی عنہ مکہ میں پید ا ہوئے اور آپ ان چند لوگوں میں سے تھے جو لکھ پڑھ سکتے تھے۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سخت مخالفت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دعا سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس لیے آپ کو مراد رسول بھی کہا جاتا ہے.

ہجرت

ہجرت کے موقع پر کفار مکہ کے شر سے بچنے کے لیے سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپ کو چھپ کر ہجرت کرنا اچھا نہیں لگا تو آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کو مخاطب کر کے کہا
” تم میں سے اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی بیوی بیوہ ہوجائے اس کے بچے یتیم ہوجائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے”
مگر کسی کافر کی اتنی ہمت نہ پڑی کہ آپ کا راستہ روک سکتا۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا “اگر میرے بعد کوئی اور نبی مبعوث ہونا ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔” ( جامع ترمذی، ج 2 ، ص 563)ایک اور موقع پرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا “جس راستے پر عمر ہو وہاں سے شیطان راستہ بدل لیتا ہے۔” (صحیح بخاری، ج 2 ، رقم الحدیث 880 )مزید ایک موقع پر فرمایا ” اللہ نے عمر کی زبان پر حق کو جاری کردیا ہے۔

مزید پڑھیں۔  پاکستان کی حکومت اور گنجے کے ناخن

انصاف پسند حکمران

آپ ایک انصاف پسند حکمران تھے۔ ایک مرتبہ آپ مسجد میں منبر رسول پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا کہ
” اے عمر ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتا گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا”تو عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ”مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ موجود ہے، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگئے۔ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتا کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا”
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ” بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لئے میں نے اپنا کپڑا والد کو دے دیا” ابن سعد فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن حضرت امیر المومنین رضی اللہ عنہ کے دروازے پن بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک کنیز گزری ۔ بعض کہنے لگے یہ باندی حضرت عمر فاروقؓ کی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ” امیر المومنین کو کیا حق ہے وہ خدا کے مال میں سے باندی رکھے” میرے لئے صرف دو جوڑے کپڑے ایک گرمی کا اور دوسرا سردی کا اور اوسط درجے کا کھانا بیت المال سے لینا جائز ہے۔ باقی میری وہی حیثیت ہے جو ایک عام مسلمان کی ہے۔جب آپ کسی بزرگ کو عامل بنا کر بھیجتے تھے تو یہ شرائط سنا دیتے تھے :
1) گھوڑے پر کبھی مت سوار ہونا۔
2) عمدہ کھانا مت کھانا۔ ۔
3) باریک کپڑا مت پہننا۔
4) حاجت مندوں کی حاجت پوری کرنا اور پھر اگر کوئی اس کے خلاف ہوتا تو اسے کڑی سزائیں دیتے۔
سادہ طبیعت کے مالک
حضرت عمرؓ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ ایران شام عراق فلسطین عرب اور مصر پر مشتمل وسیع و عریض مملکت کا سربراہ ہونے کے باوجود آپ کھدر کا لباس پہنتے تھے ۔ جس پر پیوند لگے ہوتے تھے ۔

loading...

مساوات کے علمبردار

آپ انسانی معاشرتی مساوات پر اس قدر عمل کرتے تھے کہ ایک مرتبہ جب آپ کو معاہدہ طے کرنے کے لئے فلسطین آنے کی دعوت دی گئی تو آپ نے اپنے ایک غلام کے ساتھ اونٹ پر باری باری سوار ہو کر سفر طے کیا ۔ جس وقت آپ وہاں پہنچے غلام اونٹ پر سوار تھا اور آپ اونٹ کی نکیل پکڑ کر آگے چل رہے تھے تو اس طرح عیسائیوں نے غلام کو خلیفہ سمجھ لیا مگر انہیں بتایا گیا کہ خلیفہ پیدل چلنے والا شخص ہے ۔

مزید پڑھیں۔  گزرے کل کو بھول کر آنے والے کل پر نظر !

عدل و انصاف

آپ عدل و انصاف کے عظیم پیکر تھے ۔ اس کی مثال ہم اس طرح لے سکتے ہیں کہ انہوں نے شراب نوشی اور اخلاقی گراوٹ کے جرم میں اپنے بیٹے کو کوڑے لگوا کر ہلاک کروا دیا ۔

حضرت عمرؓ کی عادات و خصائل

حضرت عمر رضی اللہ عنہ ،حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی دیگر صحابہ کی طرح مشورہ کرتے اور خود حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی جلالت کے معترف تھے چنانچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ آئے تو فرمایا آپ رضی اللہ تعالی عنہ پر اللہ رحمت بھیجے کوئی شخص مجھے تمہارے درمیان اس ڈھکے ہوئے آدمی (مراد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی میت سے تھی) سے زیادہ پسند نہیں کہ میں اس کے نامہ اعمال کے ساتھ اللہ سے ملوں۔

عسکری نظام

عہد فاروقی سے پہلے فوج کا کوئی باقاعدہ محکمہ نا تھا ۔ مگر پھر حضرت عمرؓ نے ولید بن حشام کے مشورہ سے فوج کا ایک باقاعدہ محکمہ قائم کیا ۔ آپ نے قریش اور انصار کے نام رجسٹروں میں درج کروا کے ان کے مرتبوں کے مطابق انکی تنخواہیں مقرر کیں ۔ تنخواہیں کم سے کم سو اور زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار درہم تھیں ۔

حضرت عمر کی شہادت

22 ہجری میں فیروز نامی ایک غیر مسلم عجمی نے اپنی ذاتی رنجش کی بنا پر حضرت عمر فاروق کو تلوار مار کر زخمی اس وقت کیا جب آپ فجر کی نماز پڑھنے میں مشغول تھے ۔ فیروز کو گرفتار کرلیا گیا مگر گرفتاری کے بعد اس نے خودکشی کر لی ۔ حضرت عمرؓ زخموں سے جانبر نا ہو سکے اور تیسرے روز یکم محرم الحرام کو خالق حقیقی سے جا ملے ۔آپ کو حضور پاک ﷺ کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔
****

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں