کیروفوبیا (Cherophobia) خوشی سے خوف کا مرض

کیروفوبیا

زندگی مشکلات کا نام اس میں دکھ بھی ہیں اور خوشیاں بھی۔ ہماری زندگی میں دکھ اور خوشی ساتھ ساتھ چلتے ہیں کبھی ایک کم ہے تو دوسرا زیادہ، غم اور خوشی کے اسی تال میل کا نام زندگی ہے۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ غم سے یا دکھ سے سامنا کم سے کم ہو اور خوشی زیادہ سے زیادہ نصیب ہو ہم خوش رہیں یہ ہماری پہلی کوشش ہوتی ہے۔

خوشی کیا ہے؟ اس کا جواب مختلف لوگوں کے لیے مختلف ہو سکتاہے۔ لیکن ایک عام انسان کے لیے خوشی اچھی جاب اچھی بیوی اچھا گھر وغیرہ ہے اور مزید یہ کہ ایک نارمل انسان وہ کماتا خرچ کرتا ہے دوستوں کے ساتھ گھومنے جاتا ہے پارٹیز کرتا ہے اور دیگر ایسے کام کرتا ہے جس سے اسے خوشی محسوس ہوتی ہے۔

لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خوش ہونے سے ڈرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ اگر بہت زیادہ اچھے واقعات ہونے لگیں تو انہیں ڈر لگنے لگتا ہے کہ کہیں ان کے ساتھ کچھ برا تو نہیں ہونے والا، ایسے لوگ کسی بھی پارٹی وغیرہ میں شرکت کرنے سے گھبرانے لگتے ہیں کیوںکہ انہیں لگنے لگتا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کے ساتھ کچھ برا ہو جائے گا۔

دماغی امراض کے ماہرین کے مطابق ایسا ایک دماغی خلل یا مرض کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس دماغی مرض کا نام ہے ‘کیروفوبیا’ (Cherophobia) یعنی خوشی سے خوف کا مرض۔ اس فوبیا ہی کہ وجہ سے لوگوں کے اندر خوشی سے خوف پیدا ہونے لگتا ہے۔ اس مرض مبتلا لوگوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہ ہی کریں جس سے انہیں خوشی محسوس ہو۔

مزید پڑھیں۔  کوئٹہ: پولینگ سٹئشن کے قریب خود کش دھماکہ

“یہ بھی پڑھیں: او” بلڈ گروپ کے حامل افراد کے لیے گندم کھانے کے نقصانات

میڈیکل سائنس میں یا دماغی امراض میں تحقیق کے ضمن میں “کیروفوبیا” پر بہت زیادہ تحقیقی کام نہیں ہوا لیکن ہیلتھ لائین جریدے کے مطابق ‘کیروفوبیا’ اینگزائٹی (anxiety) ہی کی ایک قسم ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کیروفوبیا میں مبتلا لوگ ہمیشہ اداس ہی رہتے ہیں، بلکہ ایسے لوگ کسی خوشی کے حصول والی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے بچتے ہیں۔

اس مرض کی کچھ علامات درج ذیل ہیں۔

ایسے لوگوں کو اگر کسی پارٹی میں دعوت دی جائے تو وہ گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔

‘کچھ برا ہوجائے گا’ اس ڈر سے ایسے لوگ خوشی کے مواقع ضائع کر دیتے ہیں۔

ایسے لوگ سوچتے ہیں کہ خوشی کا حصول وقت کا ضیاع ہے یعنی پارٹیز یا سیر وغیرہ کوجانا، اس لیے وہ کسی بھی ایسے کام شریک ہونے سے انکار کر دیتے ہیں۔

ماہر نفسیات کےمطابق ‘کیروفوبیا’ عام طور پر ماضی میں خوشی کے لمحات کے دوران کسی بُرے واقعہ کے ہونے کہ وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔ اور ایسا اگر بار بار ہوا تو اس مرض میں بھی شدت آجاتی ہے۔

کیروفوبیا یا خوشی سے خوف کے مرض کا کوئی خاص علاج نہیں بتایا جاتا البتہ اس کا ایک علاج یہ کہ اگر آپ کو ایسا محسوس ہوتا تو جتنا ممکن ہو سکتا ہے ایسا سوچنے سے پرہیز کریں ۔  اور خود کو یہ یقین دلائیں کہ خوش ہونے سے یا خوشی کے حصول سے کچھ برا نہیں ہوگا۔ بھر پور طریقے سے ایسے منفی احساسات کا مقابلہ کریں۔ اگر پھر بھی اس مرض میں کمی واقع نہ ہو تو کسی ماہر نفسیات سے رابط کریں۔

مزید پڑھیں۔  بھارت، تیز آندھی سے تاج محل کوشدید نقصان،12فٹ بلند مینار گر گیا

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں