شام میں کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا تھا ٗروسی وزیر خارجہ

وزیر خارجہ

ماسکو: روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے کہا ہے کہ شام میں غیر ملکی ایجنٹس کی مدد سے کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ چند روز قبل شام کے علاقے دوما میں کیمیائی حملہ کیا گیا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے ٗ

امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں کیمیائی حملے کا الزام روس پر عائد کیا گیا اور امریکی صدر کی جانب سے ماسکو کو خبردار بھی کیا گیا کہ وہ جلد یا تاخیر سے حملے کیلئے تیار رہے۔ روس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میزائل حملے کی بات کر کے جنگ کو دعوت دے رہا ہے اور جس جگہ سے شام پر حملہ ہو گا روس اسی جگہ کو نشانہ بنائے گا۔روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ شام میں مغربی مداخلت سے یورپ میں مہاجرین کی نئی لہر کا خطرہ ہے، ان کے پاس ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ ایک ملک کی جانب سے ’روسو فوبک مہم‘ کے ذریعے کیمیائی حملے کا ڈرامہ رچایا گیاتاہم روسی وزیر خارجہ کی جانب سے اس ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کے بیان پر درعمل دیتے ہوئے سرگئی لاوروو کا کہنا تھا کہ ان کے برطانوی ہم منصب عالمی کیمیائی واچ ڈاگ کی تحقیقات کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بورس جانس جیسے سیاستدان اعصابی گیس حملے سے متعلق حقائق مسخ کر رہے ہیں اور او پی سی ڈبلیو کے بیان کو برطانیہ کیحق میں قرار دے رہے ہیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کیمیائی حملے کا جواب دینے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

مزید پڑھیں۔  سابق فرانسیسی صدر سرکوزی گرفتار

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں