پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے ،چیف جسٹس

چیف جسٹس پاکستان
loading...

ہیلتھ کیئر کمیشن کو پنجاب میں عطائیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم ،تمام متعلقہ محکمے ہیلتھ کیئر کمیشن کی مدد کریں‘ سپریم کورٹ

لاہور :سپریم کورٹ آف پاکستان نے ہیلتھ کیئر کمیشن کو پنجاب میں عطائیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پنجاب کے تمام متعلقہ محکمے ہیلتھ کیئر کمیشن کی مدد کریں،سیل کئے گئے کلینکس کھولنے کیلئے صرف سپریم کورٹ سے ہی رجوع کیا جا سکے گا،عدالت نے پنجاب بھر کے تمام ہسپتالوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لی ،عدالت نے صاف پانی کمپنی سمیت دیگر کمپنیوں میں جانے والے بیورو کریٹس کی تفصیلات جبکہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری زیر التواء ٹیسٹوں کی رپورٹس چھ ہفتوں میں عدالت پیش کرنے کا حکم دیدیا ۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مفاد عامہ سے مختلف ازخود نوٹس کیسز کی سماعت کی ۔

چیف جسٹس نے چیف آپریٹنگ آفیسر ہیلتھ کیئر کمیشن کو عطائیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرتے ہوئے عطائیوں کے کلینک سیل کرنے کا حکم دیدیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عطائیوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں،سیل کئے گئے کلینکس کھولنے کے لئے صرف سپریم کورٹ سے ہی رجوع کیا جا سکے گا،آپ کارروائی کریں گے ، ہمارے پاس آئیں گے تو ہم جائزہ لیں گے۔پنجاب کے تمام متعلقہ محکمے ہیلتھ کیئر کمیشن کی مدد کریں۔ایک دوسرے کیس کی سماعت کے دوران عدالتی حکم پر صاف پانی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسرکیپٹن (ر) محمد عثمان پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے بھی لینڈ کروزر رکھی ہوئی ہے۔جس پر سی ای او صاف پانی کمپنی نے بتایا کہ میرے پاس فار چونر گاڑی ہے ۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ یہ گاری جو آپ کے پاس ہے کتنے کی ہے ؟۔کیپٹن (ر) عثمان نے بتایا کہ 65لاکھ روپے کی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جتنے بیورو کریٹس کمپنیوں میں گئے ہیں انہیں گریڈ کے مطابق تنخواہ ملے گی۔زیادہ تنخواہیں وصول کرنے والے بیورو کریٹس کو تنخواہیں واپس کرنا ہوں گی۔سکولوں کی چار دیواریاں نہیں ہیں آپ گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔زیادہ وصول کی گئی تنخواہ واپس لیکر صحت اورتعلیم پر لگائی جائے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے نیب کے افسرسے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نیب کو گالیاں دیں تو سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔

مزید پڑھیں۔  سپریم کورٹ نے ایل این جی معاہدے کی تمام تفصیلات طلب کر لیں

چیف جسٹس نے دوران سماعت چیف سیکرٹری پنجاب کی خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ایک دوسرے کیس کی سماعت کے دوران قائمقام وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر فیصل مسعود رضا کارانہ مستعفی ہو گئے اور انہوں نے اپنے استعفیٰ بارے سپریم کورٹ کو آگاہ کر دیا ۔جبکہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے وی سی کی تعیناتی کیخلاف از خود نوٹس کی سماعت کے دوران وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان ڈاکٹر ظفر رتنویر نے بھی رضاکارانہ طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ آپ نے انسانوں کے ہسپتال میں جانوروں کے ڈاکٹر کو تعینات کر دیا ہے، سرچ کمیٹی دوبارہ سے نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی کیلئے موزوں امیدوار تلاش کرے، ڈاکٹر عیس محمد کی اچھی شہرت ہے اسی لئے یہی سرچ کمیٹی نیا وی سی تعینات کرنے کیلئے کارروائی کرے، مجھے یقین ہے کہ آئندہ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی میرٹ پر ہو گی۔

عدالت نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج یونیورسٹی میں سینئر ترین پروفیسر کو فوری طور پر قائم مقام وی سی تعینات کرنے کا حکم دیدیا ۔سپریم کورٹ نے سرکاری ہسپتالوں میں ناقص صورتحال پر ازخود نوٹس کیس میں پنجاب بھر کے تمام ہسپتالوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا حکم دے دیاجبکہ محکمہ صحت میں خالی تمام آسامیوں کو بھی فوری پر کرنے کے عمل کے آغاز کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے محکمہ صحت میں بھرتیوں کا کا عمل مکمل کیا جائے۔

مزید پڑھیں۔  آپ کا دن کیسا گزرے گا؟

چیف سیکرٹری پنجاب نے کہا کہ انتخابات سے پہلے بھرتیاں نہیں کی جا سکتیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو الیکشن کے دوران بھی بھرتیاں کرنے کے لئے استثنیٰ حاصل ہے۔سپریم کورٹ میں پنجاب ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں ادویات کی بروقت ٹیسٹنگ نہ ہونے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران ڈی جی کی جانب سے جواب عدالت میں جمع کرا دیا گیا ۔ جس میں بتایا گیا کہ 1300ادویات میں سے 1077 کی ٹیسٹنگ مکمل کر لی گئی ہے، صرف 270 ادویات کی ٹیسٹنگ مکمل ہونا باقی ہے۔ جس پر عدالت نے حکم دیا کہ ٹیسٹنگ مکمل نہ ہونے والی اویات کو 6 ہفتوں میں مکمل کیا جائے، ہر نئی آنیوالی میڈیسن کی 30 یوم میں ٹیسٹنگ مکمل کر کے ہسپتالوں کو فراہم کی جائے۔

سپریم کورٹ کا عدالتی حکم کی روشنی میں کارکردگی رپورٹ ہر 3 ماہ بعد جمع کرانے کا حکم دیدیا ۔ چیف جسٹس نے ڈی جی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی تنخواہ کتنی ہے جس پر ڈی جی ڈی ٹی ایل نے اپنی سیلری سلپ عدالت میں جمع کرا دی ۔ جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ یہ سلپ میرے بریف کیس میں رکھیں اسکو بعد میں دیکھیں گے۔ علازہ ازیں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے غیر قانونی شادی ہالزسے متعلق از خود کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ کسی غیر قانونی شادی ہال کو نہیں رہنے دیں گے، پہلے سے موجود شادی ہالز کو ریگولرائز کرنے سے متعلق سفارشات کا عدالت جائزہ لے گی۔عدالت تعین کرے گی کہ شادی ہال کے لئے کم از کم کتنی جگہ ہونی چاہیے ۔ شادی ہالز کے نام پر غیر قانونی قبضے کر کے پلازے کھڑے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں