مذہبی آزادی:امریکہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکے– آج کل

خط کا جواب
Loading...

امریکہ کی جانب سے پاکستان کو مذہبی آزادی کی پامالی سے متعلق خصوصی تشویش کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے پر سینئر امریکی حکام کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس معاملے پر پاکستان کی جانب سے امریکی حکام سے شدید احتجاج کیا گیا ا ور ایک احتجاجی مراسلہ بھی ان کے حوالے کیا گیا۔احتجاجی مراسلے میں کہا گیاکہ پاکستان میں اقلیتوں کو آئین کے مطابق تمام تر مذہبی آزادی ہے۔

امریکہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کو کیسے نظرانداز کرسکتا ہے، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کا امریکی اقدام پرموقف ہے کہ پاکستان کو اپنی اقلیتوں سے متعلق کسی سے لیکچر کی ضرورت نہیں۔ذرائع نے بتایا کہ امریکی حکام نے دفتر خارجہ کے حکام کو پاکستان کا احتجاجی مراسلہ اور حقائق کی ترسیل کی یقین دہانی کرائی۔ دریں اثنا پاکستان نے مذہبی آزادی کی پامالی کے امریکی الزام پر مبنی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے اسے ‘یک طرفہ’ اور ‘سیاسی جانبداری’ پر مشتمل قرار دے دیا۔

امریکہ میں جب سے صدرٹرمپ برسر اقتدار آئے ہیں پاکستان کے خلاف معاندانہ اقدامات کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین کڑی مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزیوں اور اقلیتوں سے نامناسب رویے پر پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنا ہے۔ پچھلے سال امریکہ نے پاکستان کو اس حوالے سے خصوصی واچ لسٹ میں شامل کیا تھا، اب اسے بلیک لسٹ کردیا ہے۔ اس سے قبل چین، ایران، سعودی عرب، اریٹریا، میانمار، شمالی کوریا، سوڈان، تاجکستان اور ترکمانستان اس فہرست میں شامل ہیں۔ بلیک لسٹ ممالک پر الزام ہے کہ وہ منظم طریقے سے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

Loading...

پاکستان کے بارے میں تازہ اقدام کا اس کے سوا کوئی مقصد نہیں کہ امریکہ اسلام آباد پر اب اپنی مرضی کے اقدامات کے لئے دباؤ ڈال سکے گا۔ یہ حقیقت پوری دنیا پر عیاں ہے کہ اقلیتوں کو پاکستان میں آئینی طورپر ہر طرح کی آزادی اور تحفظ حاصل ہے۔ آسیہ کیس میں ریاست اور عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے اس کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ اسلام نے اقلیتوں کو سب سے زیادہ حقوق دیے ہیں جن کی ضمانت آئین پاکستان میں بھی دی گئی ہیجس کو رو سے اقلیتوں کو امریکہ سمیت کئی ترقیاتی ممالک سے زیادہ مذہبی اور شہری آزادیاں حاصل ہیں۔ یونین کونسل سے پارلیمنٹ تک انہیں سیاسی نمائندگیحاصل ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت میں اقلیتوں سے جو بہیمانہ سلوک کیا جا رہا ہے اسے ساری دنیا جانتی ہے مگر اسے بلیک لسٹ تو کیا واچ لسٹ میں بھی شامل نہیں کیا گیا۔ اقلتیوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال تمام دنیا میں مثالی نہیں تو اطمینان بخش ضرور ہونی چاہیے مگر خود امریکہ میں بھی اقلیتوں کے حقوق محفوظ نہیں ہیں۔

نائن الیون کے بعد امریکہ سے وسیع پیمانے پر بلاتحقیق مسلمانوں کو جلاوطن کردیا گیا۔ چند سال قبل امریکہ میں کچھ ملعون پادریوں نے قرآن پاک کو نعوذباللہ نذرِآتش کرکے دہشت گردی کا ارتکاب اور مسلمانوں کی دلآزاری کی۔ اسے نام نہاد مہذب دنیا نے آزادی اظہار کا نام دے دیا۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی پامالی ہو اس پر ہر ذی شعور کو تشویش ہوتی ہے اور اسکے سدباب کیلئے ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے۔ انسانی اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے۔ اس حوالے سے اسکی تنظیمیں موجود ہیں جو عالمی سطح پر صورتحال کا جائزہ لیتی اور ممکنہ اقدامات کرتی ہیں۔

امریکہ کو کیا اقوام متحدہ نے مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی پر بلیک لسٹ جاری کرنے کا اختیار دیا ہے اور پھر امریکہ کے پاس کسی ملک میں مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کو جانچنے کا کیا معیار ہے۔ پاکستان کے بارے میں جو کچھ کہا گیا وہ سراسر لغو اور الزام برائے الزام ہے جو ڈومور کے تقاضوں پر پاکستان کو آمادہ کرنے کا ایک حربہ نظر آتا ہے۔امریکہ غیرجانبداری سے جائزہ لے تو اس پر حقیقت واضح ہو سکتی ہے کہ مذہبی آزادیوں کیخلاف کون سا ملک کس حد تک جارہا ہے۔ پومپیو تعصب کی عینک اتار کر مذہبی آزادیوں کے حوالے سے پاکستان کا کسی بھی ملک کے ساتھ موازنہ کریں تو پاکستان میں صورتحال اطمینان بخش نظر آئیگی۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ بلیک لسٹ کی آڑ میں پاکستان پر معاشی پابندیاں بھی لگا سکتا ہے۔ ایک طرف امریکہ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان سے مدد مانگ رہا ہے تو دوسری طرف اس کے خلاف نئی پابندیوں کی راہ ہموار کر رہا ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے اگرچہ پاکستان کوپابندیوں سے استثنا دینے کا اعلان کیا ہے مگر اس کے قول و فعل میں مطابقت کم ہی نظر آتی ہے۔کون جانے کل وہ کیا کرے۔

(Visited 21 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں