ہاکی فیڈریشن کے انتخابات ٗ بریگیڈئیر خالد سجاد کھوکھر صدر ٗ شہباز سینئر سیکرٹری جنرل منتخب

ہاکی فیڈریشن

اسلام آباد:پاکستان ہاکی فیڈریشن کے انتخابات مکمل ہوگئے جس کے مطابق بریگیڈ خالد سجاد کھوکھرصدر اور شبہاز سینئر سیکرٹری جنرل منتخب ہوگئے ہیں

جبکہ نو منتخب صدر بریگیڈ (ر)خالد سجادکھوکھر نے کہاہے کہ غیر ملکی کوچ کو لانا مجبوری تھی ٗچار سالوں میں اچھے کھلاڑیوں پر مشتمل قومی ٹیم بنائیں گے ٗ اور قومی کھیل ہاکی کا سنہری دور واپس لائیں گے ٗغیر ملکی فزیکل ٹرینر بھی قومی ٹیم کی تربیت کر رہا ہے ٗ تمام توجہ ایشین گیمز کے بعد اولمپکس پر ہے ٗ ورلڈ کپ میں اچھی ٹیم ہو گی۔منگل کو چیف الیکشن کمشنر پاکستان ہاکی فیڈریشن چوہدری محمد ریاض کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر صدر اور شبہاز سینئر سیکرٹری منتخب ہوگئے ہیں ٗ

loading...

نوٹیفکیشن کے مطابق خالد انور خواجہ ٗ سید غلام مصطفی شاہ ٗ محمد سعید خان اور چوہدری اسماعیل گجر وائس پریذیڈنٹ جبکہ محمد اخلاق عثمانی خرانچی منتخب ہوگئے ہیں ۔ پی ایچ ایف اجلا س میں 93ممبر ز نے شرکت کی۔دونوں عہدیداروں کو 4سال کیلئے منتخب کیا گیا ہے۔بعد ازاں مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دور ان صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی نگرانی میں انتخاب فیڈریشن کے نمائندوں کا انتخاب ہوا۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ڈومیسٹک ہاکی کے فروغ کیلئے کوشش کی ہے ٗ مین ٹیم کے کھلاڑیوں کے درمیان مقابلے کروا رہے ہیں۔بریگیڈیئر خالد سجاد نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ چار سالوں میں اچھے کھلاڑیوں پر مشتمل قومی ٹیم بنائیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ غیر ملکی کوچ کو لانا مجبوری تھی کھلاڑی وہی ہیں

مزید پڑھیں۔  عرفان خان کی نئی تصاویر وائرل، مداح دعا گو

انہوں نے کہاکہ غیر ملکی فزیکل ٹرینر بھی قومی ٹیم کی تربیت کر رہا ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ ایشین گیمز کے بعد اولمپکس پر نظر ہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ ورلڈ کپ کیلئے اچھی ٹیم بنائیں ۔ پچاس لاکھ گرانٹ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے کھلاڑیوں کے انعامات کا اعلان کیا ہے انشا ء اللہ ہمارا خزانہ پھر بھر جائیگا ۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ دلی خواہش ہے کہ ریگولر فنڈز ملتے رہیں ٗحکومت سے این او سیز ملتی رہیں مگر اچھے کھلاڑی نہیں ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ لاہور ہائی کورٹ نے ہمیں انتخابات سے نہیں روکا تاہم لاہور ہائی کورٹ نے جواب جمع کرانے کا کہا ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں