سیاسی منظرنامہ: خوش آئند پیش رفت

پاکستان
Loading...

ملک کے سیاسی منظرنامے پر گزشتہ روز ایک بے حد اہم خوشگوار اور خوش آئند پیش رفت ہوئی ملک کے سیاسی کلچر اور جمہوریت کے حال اور مستقبل پر جس کے دور رس اور دیرپا اثرات مرتب ہونے کی قوی امید ہے۔ قومی اسمبلی میں حکومتی وفد نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل پر مشاورت کی گئی اور پھر شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے پر اتفاق کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی طے پایا کہ نون لیگ کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لینے کے لیے ذیلی کمیٹی بنے گی، جس کے سربراہ کا تعلق تحریک انصاف سے ہو گا۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی قائمہ کمیٹیوں کا قیام اور ان کے عہدیداروں کا تقرر پارلیمانی نظام کا جزو ہے اور معمول کے طریقہ کار کے مطابق یہ تقرریاں ہو جایا کرتی تھیں مگر اس بار اس عمل میں تعطل پیدا ہوا جس کی وجہ سے پارلیمان تقریباً تین ماہ تناؤ کی کیفیت کا شکار رہی۔ اس تعطل کا خاتمہ ایک خوش آئند ملاقات پر ہوا جسے اس حوالے سے غیر متوقع بھی کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت ماضی قریب تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن ارکان میں سے منتخب کرنے کا سختی سے انکار کرتی رہی ہے۔ حکومت کا موقف تھا کہ کسی قانون یا ضابطے کی رو سے قائدِ حزب اختلاف کو ایک اہم پارلیمانی کمیٹی کا سربراہ مقرر کرنا لازمی نہیں یہ محض ایک روایت تھی اور روایت توڑی جا سکتی ہے۔ تاہم بالآخر حکومت نے اس سلسلے میں لچک اور رواداری کا مظاہرہ کیا جو سراہے جانے کے قابل ہے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور قائمہ کمیٹیوں کے بغیر قانون سازی کا عمل ایک طرح سے تعطل کا شکار تھا جبکہ ملک و قوم کا درد رکھنے والے معتبر حلقوں کی جانب سے بار بار یہ آواز اٹھائی جا رہی تھی کہ قائمہ کمیٹیاں بنیں گی تو ایوان چلے گا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا سربراہ بنائے جانے سے گریز کی ایک وجہ یہ بیان کی جا رہی تھی کہ حال ہی میں اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی مسلم لیگ نون کی حکومت کے مالی معاملات بھی اسی کمیٹی کے سامنے پیش کیے جائیں گے، اگر شہباز شریف اس کے سربراہ ہوئے تو وہ اپنی جماعت کے معاملات پر نرم رویہ اختیار کریں گے۔ اصولی طور پر حکومت کا موقف درست تھا بہرحال اب یہ معاملہ باہمی مشاورت سے طے کر لیا گیا ہے جس سے یہ غمازی ہوتی ہے کہ مشاورت کا عمل حکومت اور اپوزیشن کے مابین تعاون کے در وا کر سکتا ہے چنانچہ یہ آئندہ بھی جاری رہنا چاہیے۔

Loading...

حکومت نے شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنا کر ایک انتہائی مثبت اقدام کیا ہے جس کے ملکی سیاست پر بلا شبہ اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں انتہائی سطح کے بحران کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایک نئی پارلیمانی روایت قائم ہوئی ہے جس سے جمہوریت کو استحکام ملے گا۔ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل تاخیر کا شکار تھی جبکہ قانون سازی اور رولز آف بزنس متاثر ہو رہے تھے۔

قائمہ کمیٹیاں بننے سے پارلیمانی امور میں ڈیڈ لاک از خود ختم ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کی بات مان کر جمہوریت کی بہتری کے لیے جرأت مندانہ قدم اٹھایا ۔ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین ورکنگ ریلیشن شپ مزید بہتر ہو جائے گی جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ فعال ہو گی اور ملکی و قومی مسائل کے حل کے لیے قانون سازی کا عمل پھر سے شروع ہو جائے گا۔

(Visited 17 times, 1 visits today)
Loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں