دوسروں کے ہمدرد ہونا چاہتے ہیں، ناول پڑھیں۔

دوسروں کے ہمدرد ہونا چاہتے ہیں، ناول پڑھیں۔

طبی ماہرین کا ایک انوکھا دعویٰ جس سے پڑھ کر آپ حیران رہ جائیں گے۔

یوں تو اکثرلو گ اپنے علم میں اضافے کے لئے مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کتابوں سے دوستی کسی بھی رنگ، نسل، تہذیب اور معاشرے سے بالا تر ہے اور ہر خطے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ کتاب بینی سے جڑے ہیں۔ کتابوں میں ایک منفرد مشہورِزمانہ قسم ہے ناول۔

ناول ایک طویل، خیالی کرداروں پر مبنی افسانوی کہانی ہوتی ہے۔ جس میں کسی حد تک حقیقی رنگ بھی بھرے جاتے ہیں۔ ناول نگار اس خوبصورتی سے جذبات و احساسات قلم بند کرتا ہے کہ قاری  اپنی حقیقی زندگی کو  ناول کے کرداروں سے ہم آہنگ محسوس کرنے لگتا ہے۔

ناول پڑھنا ایک تفریح کا عمل ہے۔ جس سے آپ دنیا بھر کی معلوما ت حاصل کرتے ہیں اور گھر بیھٹے دنیا بھر کی سیر کے علاوہ نئی معلومات سے بھی مستفید ہوتے ہیں۔

ناول پڑھنے کا ماہرین نے ایک اور فائدہ بھی بتایا ہے۔

“ ناول انسان میں ہمدردی کے جذبات اُبھارتا ہے”۔

امریکی ماہر ین نفسیات کی طرف سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ کہانیاں سنانے کی صدیوں پرانی روایت دوسروں کے ساتھ ہمدردی بڑھانے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔ اگرچہ کئی مطالعاتی جائزوں میں دکھایا گیا ہے کہ ناول پڑھنے سے دماغ وسیع ہوتا ہے۔ لیکن نتائج بتاتے ہیں کہ ناول پڑھنے سے ہمیں دوسروں کے جذبات اور نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور ہمارا ان کے ساتھ ہمدردی کا رشتہ گہرا ہوتا ہے۔

ناول پڑھنے سے سوچ میں مثبت تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ جب انسان ذاتیات سے بالا تر ہو کر کہانی کی صورت میں، منظر کشی اور خیالی کرداروں کی مدد سے  ایسے واقعات پڑھتا ہے۔ جن میں وہ خود کو کہیں نہ کہیں محسوس کرے۔ تو وہ ہمدرد بن جاتا ہے اور اسے دوسروں کے نظریات کی بہتر سمجھ آتی ہے۔

مزید پڑھیں۔  انڈونیشیا میں دو چہرےوالے بچے کی پیدائش تصاویر دیکھیں

کچھ حقائق ذہنی صلاحتوں کے متعلق خاصے پیچیدہ یا کہہ لیں مختلف ہوتے ہیں۔ جو دیکھتی آنکھیں سنتے کانوں کے برعکس کتاب بینی سے سیدھا جا کر دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایسے واقعات دو دماغوں کی تخلیقی صلاحتوں سے جنم لیتے ہیں۔ ایک دماغ مصنف کا اور دوسرا قاری کا ہوتا ہے۔

دونوں ہی الفاظ کے سمندر کو منظر کشی  میں ڈھال کر اپنے آپ کو اس منظر کے اندر محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری منظر میں موجود ہو تو اپنے لئے تو ہمدردی چاہتا ہی ہے۔ اسے دوسروں سے بھی ہمدردی ہونے لگتی ہے۔

۔۔ چناچہ

دوسروں کے ہمدرد ہونا چاہتے ہیں، ناول پڑھیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں