دل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں،ماہرین

heart-diseases-aajkalpk

دل کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں. عالمی ادارہ صحت کے اندازوں کے مطابق ہر سال 17.3 ملین افراد ان بیماریوں سے وفات پا جاتے ہیں اور ان میں سے 80 فیصد اموات کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں واقع ہوتی ہیں

یہ پیش گوئی کی جاتی ہے کہ سال 2030 تک دل کی بیماریاں سے ہونے والی اموات کی تعداد 23 ملین سے زائد ہو جائے گی۔ایک اندازے کے مطابق بلند فشار خون دنیا بھر میں تقریبا 40 فیصد بالغوں کو متاثر کرتا ہے. پاکستان میں 50 فیصد بالغ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں. اسکیمک ہارٹ ڈیزیز مردوں میں 46 فیصد CVD اموات اور خواتین میں 38 فیصد کی ذمہ دار ہے. بلندفشار خون کے صرف 50 فیصد مریضوں کی تشخیص ہوپارہی ہے. ان میں سے بھی صرف نصف کا علاج کیا جاتا ہے۔بلند فشار خون کی بیماری عمر کے ساتھ بڑھتی ہے. نوجوانی میں یہ بیماری خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ ہوتی تھی. تاہم، 60 سال سے زائد عمر کے لوگوں میں اب یہ عورتوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار طبی ماہرین نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں عالمی یوم بلند فشار خون کے سلسلے میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کے دوران کیا. اس کا مقصد بلند فشار خون اور دل کی بیماریوں کے بارے میں شعور بڑھانا تھا. پریس کانفرنس کا انعقاد نو وارٹس کی جانب سے پاکستان کارڈیک سوسائٹی (پی سی ایس) اور پاکستان ہائپر ٹینشن لیگ (پی ایچ ایل) کے اشتراک سے کیا گیا تھا۔پریس انفرنس کے مقررین میں صدر پاکستان کارڈیک سوسائٹی پروفیسر محمد نعیم اسلم، چیپٹر کوآرڈینیٹر پی سی ایس لاہور پروفیسر زبیر اکرم، صدر پاکستان ہائپرٹینشن لیگ پروفیسر صولت صدیقی، پروفیسر ثاقب شفیع شیخ، چیئرمین سائنٹفک کونس پی سی ایس ڈاکٹر بلال شیخو محی الدین اور ڈاکٹر کامران بابر شامل تھے۔طبی ماہرین نے بتایا کہ دل، فالج و گردے ناکارہ ہونے جیسی بیماریوں کی طرح بلند فشار خون کی وجوہات پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے. اس لیے اس سے بچا اور احتیاطی تدابیر پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے. ڈاکٹروں نے زور دیا کہ پاکستان کی آبادی میں اس بیماری کی شدت کو کم کرنے کے لئے صحت مند طرز زندگی اور احتیاطی تدابیر بھی اہم ہے۔

مزید پڑھیں۔  عمران نے نکاح چھپایا ٗوہ آرٹیکل 62 پر پورا نہیں اترتے ٗریحام خان

پروفیسر محمد نعیم اسلم نے کہا کہ دل کی ناکامی (ایچ ایف) کی وجہ دل کی جسمانی ساخت یا کام میں تبدیلی ہوتی ہے جس سے دل کو خون صحیح طرح فراہم نہیں ہو پاتا. یہ بہت خطرناک ہوتی ہے۔تقریبا ایک سے دو فیصد بالغ آبادی کو دل کی بیماری کا سامنا ہے. دائمی دل کی بیماری کے مریضوں میں بیماری کے پانچ سال کے اندر موت کی شرح 50 فیصد ہے. انہوں نے مزید بتایا کہ دنیا بھر میں، تمام ہسپتالوں میں داخل ہونے والے ایک سے چار فیصد مریضوں کو پرائمری تشخیص میں دل کی بیماری میں مبتلا پائے جاتے ہیں. وہ اوسطا ہسپتال میں پانچ سے 10 دن تک داخل رہتے ہیں۔پروفیسر زبیر اکرم نے کہا کہ دل کے مریضوں کو نہ صرف بیماری سے لڑنا پڑتا ہے بلکہ ان کی روز مرہ مصروفیات بھی محدود ہو جاتی ہیں. انہوں نے کہا کہ یہ بیماری کیریئر اور حاضریوں کے لیے بھی بوجھ بنتی ہے۔پروفیسر صولت صدیقی نے کہا کہ دل کی بیماری کی تشخیص میں کسی ماہر کا کیاگیا ایکو کارڈیوگرافی ٹیسٹ انتہائی اہم ہے

پروفیسر ثاقب شفیع شیخ نے کہا کہ دل کے مریضوں کے علاج سے ان کامعیار زندگی بہتر ہو جاتا ہے. اسپتال میں کم داخل ہونا پڑتا ہے. اموات میں بھی کمی آجاتی ہے۔مریضوں میں جہاں غذائیت یا ادویات اثر نہ کریں تو دل کے دورے کا امکان بڑھ جاتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ضروری ہے کہ ان مریضوں کو مناسب غذا اور ادویات کی اہمیت کے متعلق مشاورت اور تعلیم ملنی چاہیے.

مزید پڑھیں۔  وقت بدل گیا ہے اب پاکستان مغرب کا محبوب نہیں، شاہ محمود قریشی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں