ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا کیخلاف بیانات ، امریکی اخبارات نے آزادی صحافت کیلئے مہم کا آغاز کردیا

ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکہ کے 300 سے زائد اخبارات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا کیخلاف بیانات اور آزادی صحافت کے فروغ کیلئے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار دی بوسٹن گلوب نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ کی ’تضحیک آمیز جنگ‘ کے خلاف ملک بھر میں مہم کا اعلان کیا تھا، اس حوالے سے ہیش ٹیگ اینیمی آف نَن(کسی کا دشمن نہیں) بھی استعمال کرنے کو کہا گیا تھا۔واضح رہے ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کی خبروں کو ’ جعلی خبریں‘ قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو ’ عوام کا دشمن‘ قرار دیا تھا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے مطابق وہ 281 مرتبہ میڈیا کیخلاف بیان دے چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان نے صحافیوں کے خلاف تشدد کو بڑھایا ہے۔

بوسٹن گلوب نے 16 اگست کو ’ انتظامیہ کے پریس پر حملوں کے خطرات ‘ پر اداریہ لکھنے کا اعلان کرتے ہوئے دوسرے اداروں کو بھی ایسا کرنے کی درخواست کی تھی۔جس کے بعد ابتدائی طور پر بوسٹن گلوب کو 100 صحافتی اداروں کی جانب سے مثبت ردعمل ملا جو اب بڑھ کر 350 تک جا پہنچا ہے، اس مہم میں امریکہ کے نامور قومی اخبارات اور چھوٹے مقامی اخبارات شامل ہیں، اس مہم میں عالمی اشاعتی ادارے بھی شامل ہیں جن میں برطانوی اخبار دی گارجین بھی اس مہم کا حصہ ہے۔بوسٹن گلوب نے اداریئے کی ہیڈ لائن شائع کی کہ ’صحافی دشمن نہیں‘ اور اس کے ساتھ آزاد میڈیا امریکہ کا اہم اصول ہے جو 200 سال سے قائم رہا ہے۔

مزید پڑھیں۔  پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی نرگس علی کامسلم لیگ (ق) میں شمولیت کا اعلان

نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ آزاد میڈیا کو آپ کی ضرورت ہے اور صدر ٹرمپ کی لفظی گولہ باری کو ’جمہوریت پر منڈلاتا ہوا خطرہ‘ قرار دیا، نیویارک ٹائمز نے مختلف اخبارات کے نمونے بھی جاری کئے۔نیویارک پوسٹ نے شائع کیا کہ’ہم اختلاف رائے والے کون ہیں ‘ انہوں نے مزید لکھا کہ ’یہ ناقابل برداشت ہوسکتا ہے کیونکہ ہم متنازع سچائیاں شائع کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جعلی خبر دیتے ہیں، مگر بطور صحافی یہ مقبولیت کامقابلہ نہیں، ہم جو کچھ کرسکتے ہیں وہ رپورٹنگ ہے۔فیلاڈیلفیا انکوائرر نے لکھا کہ اس کا شہر امریکی جمہوریت کی جائے پیدائش تھا،’

اگر پریس جواب دہی، سزا اور غیر مقبول نظریات یا معلومات سے آزاد نہیں ،تو نہ وہ ملک آزاد ہے اور نہ ہی اس کے لوگ۔‘کونی پیاک یونیورسٹی نے گزشتہ روز ایک سروے رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا کہ ری پبلکن جماعت کے 51 فیصد ووٹر کا ماننا ہے کہ’ میڈیا جمہوریت کا اہم حصہ ہونے کے بجائے لوگوں کا دشمن ہے‘ جبکہ ری پبلکن کے 52 فیصد حمایتیوں کو اس بات پر تشویش نہیں تھی کہ صدر ٹرمپ کی تنقید کے نتیجے میں صحافیوں کے خلاف تشدد شروع ہوسکتا ہے۔سروے کے مطابق 65 فیصد ووٹرز نیوز میڈیا کو جہموریت کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کے مطابق وہ 281 مرتبہ میڈیا کے خلاف بیان دے چکے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں