کیا میں بھی ایک عورت ہوں؟ایک عورت کا معاشرے سے سوال۔

poor women -aajkal

تحریر :عبدالرزاق میو

گرمیوں کی تپتی دوپہر جب سورج سوّا نیزے پر آگ برسا رہا ہوتا ہے۔ تو میں سڑک کی تعمیر کے لئے روڑی اور پتھر سڑک پر ڈالتی ہوں۔

مجھے پیاس بھی لگتی ہے اور بھوک بھی۔ اڑتی دھول سے مجھے بھی کرہت آتی ہے اور میرا حلک بھی تپتی گرمی میں خشک ہوتا ہے۔ راہگیروں کی ٹٹولتی نظریں اور ساتھی ورکروں کی چھیڑ چھاڑ سے مجھے بھی غصّہ چڑھتا ہے۔ لیکن میں اپنے جزبات اور غصّہ پر قابو پائے چند سو روپوں کی خاطر اپنے کام میں مگن رہتی ہوں۔

حکمران میرے ہاتھوں سے بنائی سٹرک پر اپنی پروٹوکو ل والی گاڑیوں میں دھول اور کنکریاں اڑاتے گزرجاتے ہیں۔  جو میرے تپتے چہرے اور جسم پر لوہے کی گولیوں کی طرح خُبتی ہیں۔

۔

road worker women 2

کیا میں انسان نہیں؟۔

کیا میں ایک عورت نہیں؟۔

کیا میرے میرے کوئی حقوق نہیں؟۔

میرے بھی چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں۔ جو میرے اس کام میں ہاتھ بٹانے پر مجبور ہیں۔ لیکن مجھے مزدوری پھر بھی پوری نہیں ملتی۔ میرا ناتو کوئی EOBI کارڈ ہے اور نا کوئی سوشل سیکیورٹی کارڈ۔ مجھے بتایا جائے۔ کیا میں ایک عورت نہیں؟۔ کیا میں انسان نہیں؟۔ کیا میں پاکستانی نہیں؟۔

child labur

خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں (NGOS ) کہاں ہیں؟۔ میرے لیے آواز کیوں نہیں اٹھاتی۔ میرے بچے بھوکے رہتے ہیں۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزور سے کمزورتر ہوتے جارہے ہیں۔ کیا میرے بچوں کا قصور یہ ہے کہ وہ ایک غریب عورت کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں؟۔ کہاں ہیں یہ نام نہاد حکمران، کہاں ہےانصاف، مجھے انصاف کیو ں نہیں ملتا؟۔

مزید پڑھیں۔  پاکستانی ڈرامے سماج کی عکاسی نہیں کرتے، پیمرا

Nwaz , shahbaz , Zardari

loading...

ہائے یہ کیسی ترقی ہے؟۔ میں آ پ سے سوال پوچھتی ہوں کہ یہ جوحکمران بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرتے ہیں۔ بڑے بڑے ہوٹلوں ہیں کھانا کھاتے ہیں۔ یہ مجھے بتائیں کہ غربت کیاہے؟۔ انہیں کیا پتہ غربت کیا ہے اور ان خواتین کو کیا پتہ جو خواتین کے حقوق کیلئے بڑی بڑی تنظیمیں بنا کر بیٹھ جاتی ہیں کہ بھوک کی شدت کیا ہے۔

Rich Family in pakistan

یہ بس اپنے آپ کو سوسائٹی میں نمایاں کرنے کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔ انہیں کیا پتا کہ عورت کے حقوق کیا ہیں۔ ان کے بچے تو عالیشان بنگلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔  مہنگے سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں پھرتے ہیں۔ انہیں کیا پتہ کے چھت کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ کوئی چھت کی قیمت اُس سے پوچھے۔ جس کے سر پر چھت نہیں۔ جس کے بچے آج بھی سٹرک کنارے فٹ پاتھ پر سوتے ہیں۔

میرا قصور یہ ہے کہ میں غریب ہوں؟۔ کیا میرے بچوں کا قصور یہ ہے کہ وہ ایک غریب کے گھر پید ا ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو سب انسانوں کو برابر کا بنا کر پیدا کیا۔ تو میرے ساتھ یہ ناانصافی کیوں ؟۔

آئین اور قانون میں میرے کوئی حقوق نہیں؟۔ اگر ہیں تو اُن پر عملدرامد کیوں نہیں ہوتا۔ کون مجھے میرے حقوق دے گا۔ میرے بچوں کو تعلیم دے گا؟۔ کون مجھے اور میرے بچوں چھت دے گا۔ کون ہمیں انصاف دے گا۔ کون مجھے اور میری ساتھ کام کرنے والی حالات کی ماری ہوئی غریب عوتوں کو اُن کے حق کی اُجرت دلوائے گا؟۔

مزید پڑھیں۔  ایشیا کرکٹ کپ 2018 کے لیے ٹکٹوں کی خریداری آج سے شروع

کون ہمارے ساتھ الیکشن کے دنو ں میں کئے گئے وعدے پورے کروائے گا؟۔ جو سنہرے خواب دیکھا کر ہم پر حکمرانی کرتے ہیں۔ جو اُس وقت عورتوں کے حقوق کی بات کرتے نہیں تھکتے۔ جو بعد میں غریب عورت کو معاشرے کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔ کیا غریب انسان نہیں ہوتے؟۔ غریب کے کوئی حقوق نہیں؟۔ اگر ہیں تو میرے حقوق دلوانے کے لیے کوئی آواز کیوں نہیں اٹھاتا ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں