پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان کےسیاسی سفرکا آغاز

عمران خان
loading...

پاکستان قومی ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان کے متوقع وزیراعظم عمران خان نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1996 میں کیا اورایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی جس کا نام پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رکھا۔

پاکستان قومی ٹیم کے سابق کپتان نے 1992 میں ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کے لیے عالمی کپ جیت کر پاکستان کی شان برائی۔
پاکستان تحریک کے چیئرمین اور پاکستان کے ہونے والے وزیراعظم عمران خان 5 اکتوبر 1952 کو صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پیدا ہوئے۔

Photo: WhoIsBiography

شروع سے ہی آپ کرکٹ کے شوقین رہے اور قومی ٹیم میں شامل ہوکر ملک کے لیے خدمات انجام دیں اور 1992 میں پاکستانی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے ملک کے لیے پہلا ورلڈ کپ لانے کا اعزاز حاصل کیا۔

ورلڈ کپ جیتنے کے بعد انہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا اور 1996 میں سیاسی جماعت تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، اس کے ساتھ ساتھ عمران خان فلاحی کام بھی کرتے رہے اور کینسر کے مریضوں کے لیے اپنی والدہ کے نام پر شوکت خانم ہسپتال قائم کیا۔

سیاسی سفرآغاز

Photo: Daily FT

عمران خان نے 1997کے عام انتخابات میں 2 حلقوں این اے 53 میانوالی اور این اے 94 لاہور سے حصہ لیا، لیکن دونوں حلقوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عمران خان اس ناکامی سے مایوس نہیں ہوئے اور انہوں نے اپنی سیاسی جدو جہد جاری رکھی۔

عمران خان نے میں1999نواز شریف کے خلاف جنرل پرویز مشرف کی حمایت کی اور 2002 میں عمران خان نے میانوالی کی نشست سے ہی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی،آپ پی ٹی آئی کے واحد امیداور تھے جنہوں نے کامیابی حاصل کی تھی۔

مزید پڑھیں۔  محبت میں محبوب کا ساتھ ضروری ہوتا ہے، صرف باتیں نہیں۔ اداکارہ ماہرہ خان

سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اپنے عہدے سے مستعفی ہوئے بغیر 2007کے صدراتی الیکشن میں حصہ لینے کی وجہ عمران خان نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیااورانہوں نے اسی سال مشرف انتظامیہ پر تنقید کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مختصر عرصے کے لیے قید بھی کاٹی۔

الیکشن 2008 میں پرویز مشرف کے با وردی صدر ہونے کے باعث عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
2011 میں عمران خان نے لاہور میں ایک بڑا جلسہ کرکے تحریک انصاف کو دوبارہ سے عوام کے سامنے لے کر ایک بڑی جماعت بنا کر پیش کیا اور سیاست میں قدم مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

اس کے بعد 2012 میں امریکا کی جانب سے کیے جانے والے ڈرون حملوں کی سخت مخالفت کی اور وزیرستان کی جانب مارچ کیا اور نیٹو سپلائی روٹ کو بلاک کرنے کی کوشش کی۔2013کے عام انتخابات میں تحریک انصاف ایک بڑی جماعت بن کر سامنے آئی اور صوبہ خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔الیکشن میں دھاندلی کے خلاف 2014میں مسلم لیگ ن کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔

Photo: NewsPakistan.pk

اسی ریلی کو اسلام آباد میں ڈی چوک پر احتجاجی دھرنے میں تبدیل کیا گیا اور 4 ماہ تک وفاقی دارالحکومت میں طویل ترین دھرنا دیا۔
2016 میں پاناما پیپرز لیکس کا معاملہ سامنے آیا اور عمران خان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے جولائی 2017 میں فیصلہ دیتے ہوئے نوازشریف کو نااہل قرار دیا۔

عام انتخابات 2018 تحریک انصاف ایک مضبوط قوت بن کر ابھری اور عمران خان نے قومی اسمبلی کی 5 نشستوں سے حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔اس طرح عمران خان کی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر 158 نشستیں حاصل کیں اور ملک کی سب سے پڑی پالیمانی پارٹی بن کر سامنے آئی۔

مزید پڑھیں۔  ہنگو:مکان کی چھت گر گئی‘ایک ہی خاندان کے4 افراد جاں بحق

انشاء اللہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 18اگست کو وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں