گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمت میں 10 سے 143 فیصد تک اضافہ

گیس
Loading...

اسلام آباد: حکومت نے گھریلو صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 143 فیصد تک اضافہ کر دیا۔ گیس صارفین پر ہر ماہ 94 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ صنعتوں کے لیے بھی گیس 57 فیصد مہنگی ہو گئی۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظوری دے دی۔

نئی حکومت نے مہنگائی کا پہلا وار کرتے ہوئے گھریلو صارفین کے لیے گیس 143 فیصد تک مہنگی کر دی۔ ادھر کمرشل صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 40 فیصد اور صنعتوں کے لیے 57 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے منظوری دے دی ہے، اندازے کے مطابق اضافے سے گیس صارفین پر ماہانہ 94 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔

ماہانہ 50 کیوبک میٹر تک گیس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ان کا بل 252 سے بڑھ کر 275 روپے ہو جائے گا۔

ماہانہ 100 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 480 سے بڑھ کر 551 روپے، ماہانہ 200 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 1851 سے بڑھ کر 2216 روپے، ماہانہ 300 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 2764 سے بڑھ کر 3449 روپے جبکہ ماہانہ 400 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 9990 سے بڑھ کر 12980 روپے ہو جائے گا۔

ماہانہ 500 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 12482 سے بڑھ کر 30339 روپے جبکہ 500 کیوبک میٹر سے زائد گیس استعمال کا بل 14973 سے 36402 روپے ہو جائے گا۔ تاہم ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 200 روپے کمی کر دی گئی ہے۔

Loading...

پاور سیکٹر کے لیے گیس کی قیمتوں میں 57 فیصد اضافہ، کھاد کے کارخانوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں 50 فیصد، سی این جی کے لیے 40 فیصد، سیمنٹ کے شعبے کے لیے 30 فیصد اضافہ جبکہ عام صنعتوں اور گیس سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کے لیے گیس کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا۔

دوسری جانب سرجیکل، چمڑے، ٹیکسٹائل، قالین اور کھیلوں کا سامان بنانے والی صنعتوں کو گیس اضافے سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان یہ تمام اشیا برآمد کرتا ہے۔

400 مکعب میٹر تک گیس استعمال کرنے والے تندوروں پر گھریلو صارفین کے ٹیرف کا اطلاق ہو گا۔ ای سی سی نے گیس سلیب کی تعداد تین سے بڑھا کر 7 کر دی ہے۔

نئی قیمتوں کا اطلاق اکتوبر کے گیس بلوں سے ہو گا۔ حتمی منظوری وفاقی کابینہ کے منگل کو ہونے والے اجلاس میں دی جائے گی۔

(Visited 13 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں