پڑھیے کسی دوسرےانسان کے احساسات جاننا کیسے ممکن ہے

ٹیکنالوجی پوری دنیا میں پھیل رہی یے۔بعض کپمنیاں کہہ رہی ہیں کہ ایسی ٹیکنالوجی ایجاد ہو گئی ہے جو انسان کے احساسات کا بھی پتہ لگا لیتی ہیں۔

اس ٹیکنالوجی سے شخصی آزادیوں اور ہماری نجی زندگی پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ چہرے کی شناخت کرنے والی ٹیکنالوجی دہائیوں سے موجود ہے لیکن حالیہ برسوں میں کمپیوٹر کی استعمال میں بہتری اور مصنوعی ذہانت میں ترقی کی وجہ سے اس نے تیزی سے ترقی کی ہے۔

اب اس ٹیکنالوجی کا استعمال لوگوں کو شناخہیں۔ت کرنے کے لیے سرحدوں پر کیا جا رہا ہے، اس کے علاوہ سمارٹ فونز کو کھولنے، مجرموں کی شناخت اور بینکوں میں رقم کی منتقلی کی اجازت میں استعمال ہو رہا ہے۔

تاہم بعض کمپنیاں دعویٰ کر رہی ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اب ہمارے جذبات کی کیفیت کو بھی شناخت کر سکتی ہے۔

1970 کی دہائی سے ماہرینِ نفسیات کے مطابق کسی تصویر یا ویڈیو کو دیکھنے کے بعد وہ اس شخص کے چھپے’ مائیکرو تاثرات‘ کو پہچان سکتے ہیں اور اب ٹیک کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت والے سافٹ ویئر الگوردم اور ہائی ڈیفینیشن یا اعلیٰ کوالٹی کے کیمروں کی مدد سے اس عمل کو زیادہ درستی اور تیزی سے سرانجام دے سکتی ہیں۔

Comments

comments

مزید پڑھیں۔  ہالی ووڈ فلم سیریز ٹرمنیٹرکی نئی فلم’’ ٹرمنیٹر6‘‘اگلے سال نومبر میں ریلیز ہو گی

اپنا تبصرہ بھیجیں