بلوچستان: ریاست محالف 200 سے زائد فراریوں نے ہتھیار ڈال دیئے

ریاست مخالف
Loading...

بلوچستان میں جاری قومی سیاسی مفاہمت کے پیشِ نظر بلوچستان میں پاکستان ریاست مخالف 2 سو 65 فراریوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے والے فراریوں کا تعلق بلوچستان میں موجود مختلف کالعدم تنظیموں سے ہے، وہ صوبے میں تخریب کاری کی مختلف وارداتوں سمیت سیکیورٹی فورسز اور بے گناہ افراد پر حملوں میں ملوث تھے۔

ان تمام فراریوں کا تعلق کوہلو، ڈیرہ بگٹی، خضدار، ہرنائی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں سے ہے۔

بلوچستان میں فراریوں کے ہتھیار ڈالنے کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا، جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال ، کمانڈر سدرن کمانڈ عاصم سلیم باجوہ اور دیگر سول و عسکری حکام شریک تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ یہ خوشی کا موقع ہے کہ ان عسکریت پسندوں نے تشدد کا راستہ ترک کردیا۔

Loading...

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت غلطیاں کی ہیں اور اب ماضی کی غلطیوں پر قابو پانے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل مختلف ہوگا۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ امن کے دھارے میں شامل ہونے والے فراریوں نے حکومتی نظام پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ موجودہ سیاستدانوں کے لیے مستقبل چیلنجنگ ہے کیونکہ لوگ اپنے حقوق سے آگاہ ہیں اور مختلف فورمز پر اپنی پسماندگی اور محرومیت سے متعلق سوال اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کا کہ بلوچستان کا عام آدمی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے مسائل حل کرکے انہیں بااختیار بنائیں۔

(Visited 9 times, 1 visits today)
loading...
Advertisements

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں