نیوزی لینڈ نے پانچویں اور آخری ون ڈے میں پاکستان کو 16 رنز سے شکست دے دی۔

ولنگٹن :نیوزی لینڈ نے پانچویں اور آخری ون ڈے میں پاکستان کو 16 رنز سے شکست دیکر سیریز میں پانچ صفر سے کلین سوئپ کردیا ٗنیوزی لینڈ کے 272 رنزکے تعاقب میں پاکستان کی پوری ٹیم 49 اوور میں 256 رنز بنا سکی ٗ حارث سہیل اور شاداب خان نے نصف سنچریاں اسکور کیں، دونوں نے چھٹی وکٹ کی پارٹنرشپ میں 105 رنز بنائے ٗفخر زمان 12، عمر امین 2، بابر اعظم 10، محمد حفیظ 6 اور کپتان سرفراز احمد 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے ٗنیوزی لینڈ کے مارٹن گپٹل کو میچ اور سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ ولنگٹن میں کھیلے جا رہے سیریز کے پانچویں اور آخری ون ڈے میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹں گ کا فیصلہ کیا جسے اوپنرز نے درست ثابت کر دکھایا۔اوپنرز مارٹن گپٹل اور کولن منرو نے اپنی ٹیم کو چھ اوورز میں 52 رنز کا عمدہ آغاز فراہم کیا تاہم رومان رئیس نے 24 گیندوں پر 34 رنز بنانے والے منرو کو قابو کر لیا۔گپٹل کی عمدہ فارم کا سلسلہ جاری رہا اور انہوں نے کپتان کین ولیمسن کے ساتھ دوسری وکٹ کیلئے مزید 49 رنز جوڑ کر ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن ولیمسن کی اننگز 22 رنز پر عامر یامین کے ہاتھوں تمام ہوئی۔اس موقع پر گپٹل کا ساتھ نبھانے تجربہ کار روس ٹیلر آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے 112 رنز کی شراکت قائم کر کے ٹیم کی بڑے مجموعے تک رسائی کی بنیاد رکھی، گپٹل ایک چھکے اور 10 چوکوں سے مزین 100 رنز کی اننگز کھیلنے کے عبد رومان رئیس کی دوسری وکٹ بنے۔اس موقع پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم باآسانی 300 رنز سے زائد کا مجموعہ ترتیب دینے میں کامیاب رہے گی تاہم اختتامی اوورز میں پاکستانی باؤلرز کی نپی تلی باؤلنگ کے سبب نیوزی لینڈ کی ٹیم مقررہ اوورز میں سات وکٹ کے نقصان پر 271 رنز بنا سکی، ٹیلر نے 59 رنز بنائے۔پاکستان کی جانب سے رومان رئیس تین وکٹیں لے کر سب سے کامیاب باؤلر رہے جبکہ فہیم اشرف نے دو وکٹیں حاصل کیں۔پاکستان نے ہدف کا تعاقب شروع کیا تو ایک مرتبہ پھر بیٹنگ لائن ناکامی سے دوچار ہوئی اور سیریز میں پہلا میچ کھیلنے ولے عمر امین صرف دو رنز بنانے کے بعد میٹ ہنری کو وکٹ دے بیٹھے۔میٹ ہنری نے ٹیم میں واپسی کے ساتھ ہی اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا اور فخر زمان کے بعد بابر اعظم کو بھی آؤٹ کر کے پاکستان کو تین وکٹوں سے محروم کر دیا۔حارث سہیل اور محمد حفیظ نے شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا دینے کی کوشش کی لیکن 52 کے مجموعے پر لوکی فرگیوسن نے ان اننگز کا خاتمہ کردیا۔کپتان سرفراز احمد بھی اس مرتبہ ٹیم کے کسی کام نہ آ سکے اور صرف تین رنز بنا کر ٹیم کو بیچ منجدھار میں چھوڑ کر پویلین جا پہنچے۔57 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد شاداب خان کی میدان میں آمد ہوئی جنہوں نے حارث سہیل کے ساتھ اسکور کو آگے بڑھانا شروع کیا، دونوں کھلاڑیوں نے ذمے دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 105 رنز کی شراکت قائم کی اور اس شراکت کا خاتمہ اس وقت ہوا جب مچل سینٹنر کی گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں حارث سہیل کیچ دے بیٹھے، انہوں نے 63 رنز بنائے۔سینٹنر نے عمدہ باؤلنگ کا سلسلہ برقرار رکھا اور اگلے ہی اوور میں شاداب خان کی بھی مزاحمت کا خاتمہ کر کے پاکستان کو سارواں نقصان پہنچایا۔فہیم اشرف نے چند بڑے شاٹس لگا کر امید بندھائی لیکن سینٹنر نے ان کی 23 رنز کی اننگز کا خاتمہ کرتے ہوئے پاکستان کی جیت کے امکانات کو بھی ختم کردیا جبکہ چند بڑے شاٹس کھیلنے کے بعد محمد نواز بھی 23 رنز بنا کر پویلین لوٹے۔32 رنز بنانے والے عامر یامین نے چند ہاتھ دکھا کر شکست کو پرے دھکیلنے کی کوشش کی لیکن ان کی یہ کاوش بھی ناکافی ثابت ہوئی اور پوری ٹیم 256 رنز پر پویلین لوٹ کر میچ میں 15 رنز سے ناکامی سے دوچار ہوئی۔اس میچ میں شکست کے ساتھ ہی پاکستان کو سیریز میں 5۔0 سے کلین سوئپ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔مارٹن گپٹل کو میچ اور سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں۔  امریکی کمپنی کا پاکستان کی سمندری حدود میں کیا تلاش کرنے کا اعلان؟

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں